ایرانتازہ ترین

ایرانی ڈرون حملوں کے پیچھے روس کا خفیہ کردار؟ برطانوی حکام کا بڑا دعویٰ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران برطانیہ کے اعلیٰ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ خطے میں تعینات برطانوی اور اتحادی فوجیوں پر ہونے والے ایرانی ڈرون حملوں میں روس کا بالواسطہ کردار ہو سکتا ہے۔ برطانوی دفاعی حکام کے مطابق بعض شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے ڈرون حملوں کی نئی حکمت عملی روسی جنگی تجربات سے سیکھی ہے۔

برطانیہ کے وزیر دفاع John Healey نے کہا کہ شمالی عراق کے شہر Erbil میں ایک فوجی اڈے پر ہونے والے حالیہ ڈرون حملے میں ایسے اشارے ملے ہیں جو روسی مدد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ اڈہ امریکی اور برطانوی افواج کے زیر استعمال ہے جہاں ایرانی ڈرونز نے حملہ کیا۔

برطانوی حکام کے مطابق اس حملے میں متعدد ڈرونز استعمال کیے گئے جن میں سے دو کو برطانوی فوج نے مار گرایا، تاہم کچھ ڈرون دفاعی نظام سے بچ کر اڈے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور مختلف مقامات کو نقصان پہنچا۔

روسی حکمت عملی کی نقل؟

برطانیہ کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نک پیری کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرونز کو زمین کے قریب پرواز کرایا جا رہا ہے تاکہ ریڈار سے بچا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ حکمت عملی وہی ہے جو روس نے یوکرین کی جنگ میں استعمال کی۔

برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے استعمال کردہ کچھ ڈرونز شاہد (Shahed) طرز کے ہیں، جو پہلے روس کو بھی فراہم کیے گئے تھے اور یوکرین جنگ میں بڑی تعداد میں استعمال ہو چکے ہیں۔

روس پر خفیہ معلومات دینے کا الزام

برطانوی اور مغربی ذرائع کا کہنا ہے کہ روس ممکنہ طور پر ایران کو امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے بارے میں معلومات فراہم کر رہا ہے، جس سے ایران کو اہداف کا درست تعین کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم Vladimir Putin کی حکومت اس الزام کی تردید کرتی رہی ہے۔

اسی دوران ایران کے نئے سپریم لیڈر Mojtaba Khamenei نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکا نے خلیجی ممالک میں اپنے فوجی اڈے بند نہ کیے تو مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

حالیہ حملوں کے بعد خلیج اور عراق میں موجود فوجی تنصیبات پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس حملے میں کوئی برطانوی فوجی ہلاک نہیں ہوا، تاہم کچھ امریکی اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔

دوسری جانب کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں بھی اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔ توانائی کے شعبے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتیں تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید بڑھا تو عالمی معیشت پر اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، روس اور خطے کی دیگر طاقتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور سکیورٹی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button