امریکاتازہ ترین

ایران پر امریکی حملہ؟193اسلحے کے جہاز پہنچ گئے

(تازہ حالات رپورٹ )

واشنگٹن: امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں 2003 میں عراق پر حملے کے بعد پہلی بار اپنی سب سے بڑی فضائی عسکری طاقت جمع کر لی ہے، جسے ماہرین ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی تیاری قرار دے رہے ہیں۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال کسی حتمی حملے کا فیصلہ نہیں کیا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں خطے میں ایف-35 اور ایف-22 اسٹیلتھ طیاروں سمیت اضافی لڑاکا طیارے، کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارے، میزائل دفاعی نظام اور دو طیارہ بردار بحری بیڑے تعینات کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس غیر معمولی عسکری اجتماع سے واشنگٹن کو صرف محدود حملے نہیں بلکہ “ہفتوں پر مشتمل فضائی مہم” چلانے کی صلاحیت حاصل ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں ایران کے جوہری مراکز اور بیلسٹک میزائل تنصیبات کو نشانہ بنانا، فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنا یا حتیٰ کہ اعلیٰ قیادت کو ہدف بنانے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم فیصلہ اب تک محفوظ رکھا گیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام تیاری دباؤ بڑھانے اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب تہران کو امید ہے کہ جاری سفارتی رابطے کسی ممکنہ حملے کو مؤخر یا روک سکتے ہیں، لیکن بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق خطے میں اتنی بڑی تعداد میں فضائی اثاثوں کی موجودگی محض علامتی اقدام نہیں بلکہ مکمل آپریشنل تیاری کی نشاندہی کرتی ہے۔ خلیج، بحیرۂ عرب اور مشرقی بحیرۂ روم میں امریکی بحری اور فضائی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

عالمی سطح پر بھی اس پیش رفت کو تشویش سے دیکھا جا رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے آثار سامنے آ رہے ہیں، جبکہ یورپی ممالک کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

دفاعی ذرائع کے مطابق اس وسیع پیمانے کی تعیناتی میں ری فیولنگ ٹینکر طیارے، جدید لڑاکا جیٹ، انٹیلی جنس، نگرانی اور الیکٹرانک وارفیئر (ISR/EW) پلیٹ فارمز اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنے والے طیارے شامل ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 46 فضائی ایندھن بردار طیاروں کو یورپ کے مختلف اڈوں پر منتقل کیا گیا ہے، جسے ماہرین ممکنہ طویل فضائی آپریشن کی تیاری قرار دے رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ایف-16، ایف-22، ایف-35 اور ایف-15 لڑاکا طیاروں کی بڑی تعداد اردن کے موافق السلتی ایئربیس اور سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئربیس کی جانب منتقل کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ متعدد ای-3 سنٹری ایواکس طیارے بھی تعینات کیے گئے ہیں، جو فضائی نگرانی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

تاحال کسی اسٹریٹجک بمبار طیارے کی تعیناتی کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ نقل و حرکت خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرنے کے لیے کافی ہے۔ ان کے مطابق اس سطح کی تیاری واشنگٹن کو فوری کارروائی سے لے کر طویل مدتی فضائی مہم تک مختلف آپشنز فراہم کرتی ہے۔

امریکی حکام کی جانب سے باضابطہ طور پر کسی مخصوص ہدف کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کو ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی نے عالمی برادری میں تشویش کو بھی جنم دیا ہے، جبکہ سفارتی کوششیں بھی بیک وقت جاری ہیں۔

آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا یہ تعیناتی محض دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی ہے یا کسی بڑے عسکری اقدام کا پیش خیمہ۔

آنے والے دن اس بحران کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے اور طویل تنازع کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button