
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ) مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کے بادل گہرے ہو رہے ہیں۔ جنیوا میں ہونے والے آئندہ جوہری مذاکرات کے نتائج پر دنیا کی نظریں لگی ہیں، لیکن دوسری جانب امریکہ نے خطے میں اپنی عسکری طاقت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ 2003 میں عراق پر حملے کے بعد سے اب تک مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی اتنی بڑی نقل و حرکت پہلی بار دیکھی گئی ہے۔
عسکری تنصیبات اور جنگی طیاروں کی تعیناتی تازہ ترین دفاعی رپورٹس کے مطابق، امریکہ نے بحر ہند میں واقع اپنے اہم ترین فوجی اڈے ‘ڈیگو گارشیا’ (Diego Garcia) کی حفاظت اور ممکنہ ایرانی حملوں سے نمٹنے کے لیے ایف 16 (F-16) جنگی طیارے تعینات کر دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، فضائی تسلط قائم کرنے والے دنیا کے جدید ترین امریکی ایف 22 ریپٹر (F-22 Raptor) طیارے بھی اسرائیل پہنچ چکے ہیں، جو خطے میں کسی بھی بڑی کارروائی کے لیے الرٹ ہیں۔
امریکی کانگریس میں خفیہ بریفنگ اور ‘گینگ آف ایٹ’ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ خطاب میں ایران کے جوہری عزائم پر سخت انتباہ جاری کرنے سے چند گھنٹے قبل، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس کے سرکردہ رہنماؤں کو ایران کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور خفیہ انٹیلی جنس بریفنگ دی۔
یہ بریفنگ ‘گینگ آف ایٹ’ (Gang of Eight) کو دی گئی، جس میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے دونوں پارٹیوں کے اعلیٰ ترین رہنما اور انٹیلی جنس کمیٹیوں کے سربراہان شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس بریفنگ کی تفصیلات صیغہ راز میں رکھی گئی ہیں، تاہم یہ ایران کے خلاف کسی بڑی اور ممکنہ فوجی کارروائی کی وسیع تر تیاریوں کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔ یاد رہے کہ وزیر خارجہ روبیو نے آخری بار اس گروپ کو 5 جنوری کو بریفنگ دی تھی، جس کے ٹھیک ایک دن بعد امریکی فوج نے ایک کامیاب آپریشن کے ذریعے لاطینی امریکہ میں کارروائی کی تھی۔

نئی جنگ کے خدشات اور امریکی قانون سازوں کی تشویش ایوان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن، جم ہائمز نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا، "میں بہت فکرمند ہوں۔ مشرق وسطیٰ میں جنگیں نہ تو صدور کے لیے اور نہ ہی ملک کے لیے کبھی اچھی ثابت ہوئی ہیں۔ ہمیں ابھی تک کوئی ایک بھی ٹھوس وجہ نہیں بتائی گئی کہ آخر اسی وقت مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ چھیڑنے کی کیا ضرورت ہے۔”
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ تشویش ایران کے تیزی سے ابھرتے ہوئے ‘خلائی لانچ پروگرام’ سے جڑی ہو سکتی ہے۔ ایران کی پاسداران انقلاب (IRGC) ایسی جدید خلائی گاڑیاں تیار کر رہی ہے جو مصنوعی سیاروں کو مدار میں بھیجنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ بظاہر یہ پروگرام دفاعی نوعیت کا نہیں ہے، لیکن مغربی طاقتوں کو خدشہ ہے کہ انہی ٹیکنالوجیز کو استعمال کر کے ایران طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تیار کر سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کے واضح مطالبات امریکہ کی جانب سے مسلسل ایران پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ترک کر دے، بیلسٹک میزائلوں کی تیاری بند کرے، اور خطے میں اپنے اتحادیوں بالخصوص لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کی عسکری و مالی پشت پناہی سے باز آئے۔
حرفِ آخر (تجزیاتی جائزہ): موجودہ صورتحال انتہائی حساس موڑ پر کھڑی ہے۔ سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ جنیوا میں ہونے والے آئندہ جوہری مذاکرات اس تنازعے کا پرامن حل نکالنے کا آخری موقع ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو خلیج اور اس کے گردونواح میں جمع کیا گیا امریکی جنگی سازوسامان کسی بھی وقت خطے کو ایک بڑی جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔



