ایرانتازہ ترین

قفقاز میں امریکی فوجی پروازیں، کیا ایران کے گرد شمالی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے؟

United States Air Force کی حالیہ سرگرمیوں نے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پروازوں کے عالمی ٹریکنگ پلیٹ فارم Flightradar24 کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا نے حالیہ ہفتوں میں آرمینیا اور آذربائیجان کی جانب درجنوں فوجی کارگو پروازیں کیں، جس کے بعد سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا واشنگٹن ایران کو اس کی شمالی سرحد سے گھیرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے یا یہ محض لاجسٹک تیاری ہے۔

پروازوں کا ریکارڈ کیا بتاتا ہے؟

دستیاب فضائی ڈیٹا کے مطابق 30 جنوری سے 11 فروری کے درمیان تقریباً 35 فوجی کارگو پروازیں آرمینیا اور آذربائیجان کے لیے کی گئیں۔ ابتدا میں پروازوں کی رفتار کم رہی، تاہم 6 فروری کے بعد ان میں واضح تیزی دیکھی گئی اور 10 اور 11 فروری کو یومیہ چھ، چھ پروازیں ریکارڈ کی گئیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 20 پروازیں آرمینیا جبکہ 15 آذربائیجان پہنچیں۔ ماہرین کے مطابق یہ فرق بظاہر اہم دکھائی دیتا ہے، مگر اسے براہِ راست کسی ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

پروازیں کہاں سے آئیں؟

زیادہ تر پروازیں جرمنی میں قائم امریکی فضائی اڈے Ramstein Air Base سے روانہ ہوئیں، جو یورپ میں امریکی افواج کا بڑا لاجسٹک مرکز سمجھا جاتا ہے۔

ان پروازوں میں زیادہ تر بھاری کارگو طیارے Boeing C-17 Globemaster III استعمال ہوئے، جو تقریباً 78 ٹن تک سامان اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس محدود تعداد میں Lockheed Martin MC-130J Commando II طیارے بھی دیکھے گئے، جو عموماً خصوصی آپریشنز کی معاونت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طیاروں کی نوعیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ سرگرمی کا بڑا حصہ رسد اور تیاری سے متعلق ہے، نہ کہ براہِ راست جنگی تعیناتی سے۔

خطے کی اہمیت اور سیاسی تناظر

آرمینیا اور آذربائیجان دونوں ایران کی شمالی سرحد پر واقع ہیں اور قفقاز کا خطہ طویل عرصے سے روس اور مغرب کے درمیان اثر و رسوخ کی کشمکش کا میدان رہا ہے۔ اسی دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ دورۂ آذربائیجان اور آرمینیا نے بھی سفارتی سرگرمیوں کو نئی جہت دی، جہاں معاشی اور سکیورٹی معاہدوں پر بات چیت ہوئی۔

ادھر واشنگٹن اور تہران کے درمیان بیانات کی سختی اور بالواسطہ عسکری نقل و حرکت نے بھی علاقائی فضا کو حساس بنا رکھا ہے۔

کیا یہ ایران کے خلاف گھیرا بندی ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ فضائی ڈیٹا کسی فوری حملے یا شمالی محاذ سے گھیراؤ کی واضح تیاری ثابت نہیں کرتا۔ تاہم یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا قفقاز میں اپنی لاجسٹک موجودگی اور تیز رفتار رسائی کی صلاحیت کو مضبوط بنا رہا ہے، جسے بعض مبصرین "خاموش تیاری” قرار دیتے ہیں۔

علاقائی سطح پر ٹرانسپورٹ کوریڈور منصوبوں، خصوصاً مجوزہ زمینی راہداریوں، کو بھی بعض حلقے ایران پر معاشی دباؤ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ منصوبے بظاہر اقتصادی نوعیت کے ہیں، لیکن جغرافیائی سیاست میں ان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔

نتیجہ

فی الحال دستیاب شواہد کسی براہِ راست فوجی محاذ آرائی کی نشاندہی نہیں کرتے، تاہم قفقاز میں بڑھتی امریکی سرگرمی خطے کی بدلتی صف بندیوں کی عکاسی ضرور کرتی ہے۔ حالات کا دار و مدار آئندہ سفارتی پیش رفت اور ایران۔امریکا تعلقات کی سمت پر ہوگا، کیونکہ کشیدگی کی صورت میں یہی لاجسٹک نیٹ ورک فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button