امریکاتازہ ترین

ایران میں زمینی حملے کی تیاری، امریکی فوج کے خفیہ منصوبے سامنے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ کے سابق سینٹکام کمانڈر نے انکشاف کیا ہے کہ ایران میں ممکنہ زمینی کارروائی کے منصوبوں پر کئی سالوں سے کام جاری ہے، جبکہ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ان منصوبوں پر دوبارہ غور کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ریٹائرڈ جنرل فرینک میک کینزی کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں، چھوٹے فوجی اڈوں اور جزائر پر محدود کارروائیوں کے مختلف آپشنز تیار کر رکھے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی کارروائیاں عام طور پر مختصر مدت کے لیے ہوتی ہیں، جن کا مقصد کسی مخصوص ہدف کو حاصل کر کے فوری واپسی ہوتا ہے۔

انہوں نے خاص طور پر خارگ جزیرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اس اہم آئل حب پر کنٹرول حاصل کر لیتا ہے تو ایران کی تیل برآمدات کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، جو تہران کی معیشت پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع بھی مبینہ طور پر ایسے زمینی آپریشنز کی تیاری کر رہا ہے جو کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔ ان میں اسپیشل فورسز اور روایتی فوجی دستے شامل ہو سکتے ہیں، جو مخصوص اہداف پر حملے کر کے انہیں کنٹرول میں لینے کی کوشش کریں گے۔

خطے میں امریکی فوجی موجودگی بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جہاں ہزاروں میرینز اور بحریہ کے اہلکار جدید جنگی سازوسامان کے ساتھ تعینات کیے جا چکے ہیں۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی کا مطلب یہ نہیں کہ زمینی جنگ کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکہ محدود فضائی اور بحری کارروائیوں کے ذریعے بھی اپنے کچھ اہداف حاصل کر سکتا ہے، جن میں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور ایران کے میزائل و جوہری پروگرام پر دباؤ ڈالنا شامل ہے۔

دوسری جانب عوامی سطح پر اس جنگ کے خلاف آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں۔ حالیہ سروے کے مطابق امریکی عوام کی اکثریت ایران کے ساتھ جاری تنازع کی مخالفت کر رہی ہے، جس سے حکومت پر سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر زمینی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تو یہ ایک پیچیدہ اور خطرناک مرحلہ ہوگا، جو نہ صرف جنگ کو طول دے سکتا ہے بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button