(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
واشنگٹن: ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے لیے پس پردہ کوششیں کیں، جس سے حالیہ بیانات اور عملی اقدامات کے درمیان فرق پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے کئی ہفتوں تک سفارتی سطح پر جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری رکھیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی پر دباؤ ڈال رہی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے مختلف ممالک کے ذریعے رابطے بھی قائم کیے گئے۔
اس حوالے سے پاکستان کا کردار بھی سامنے آیا ہے، جہاں اعلیٰ سطح پر رابطوں کے ذریعے دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان بالواسطہ بات چیت جاری رہی، جس میں کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر غور کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف امریکا کی جانب سے سخت بیانات سامنے آئے، جبکہ دوسری جانب سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رہیں، جو بین الاقوامی سیاست میں ایک عام حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال اور توانائی کی عالمی منڈی پر پڑنے والے اثرات نے بڑی طاقتوں کو فوری حل تلاش کرنے پر مجبور کیا، تاکہ معاشی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
مجموعی طور پر یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی تنازعات میں بیک وقت سخت بیانات اور پس پردہ مذاکرات دونوں جاری رہتے ہیں، اور اصل پیش رفت اکثر سفارتی رابطوں کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔