
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی ماہرِ بین الاقوامی تعلقات اور معروف پروفیسر جان میرشیمر نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے امریکی حکمت عملی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس تنازع میں کامیابی حاصل نہیں کر رہا اور یہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ ایک بڑی غلطی ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک ویڈیو بیان میں پروفیسر میرشیمر نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بحری بیڑہ اور فوجی وسائل تو بھیج دیے، مگر اس کے باوجود تہران نے ہتھیار ڈالنے یا دباؤ میں آنے کے کوئی آثار نہیں دکھائے۔ ان کے مطابق یہ حیران کن نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایران ایک قدیم تہذیب اور مضبوط ریاستی ڈھانچے والا ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے یہ پیغام جا رہا ہے کہ امریکا نے ایسی جنگ شروع کی جس کے لیے نہ مناسب فوجی وسائل موجود تھے اور نہ ہی کوئی واضح حکمت عملی تیار کی گئی تھی۔ ان کے مطابق کسی بھی بڑی فوجی مہم کے لیے واضح منصوبہ بندی اور طویل مدتی حکمت عملی ضروری ہوتی ہے۔
میرشیمر نے مزید کہا کہ اس صورتحال کا اثر عالمی طاقتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق چین اور روس جیسے ممالک اس تنازع کو بغور دیکھ رہے ہیں اور وہ اس سے امریکا کی فوجی اور سفارتی صلاحیتوں کا اندازہ لگا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس جنگ کے باعث توانائی کی عالمی منڈی، بحری تجارت اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو صرف عسکری اقدامات کے بجائے سفارتی راستوں اور مذاکرات کے امکانات پر بھی غور کرنا پڑ سکتا ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور وسیع تر تصادم سے بچا جا سکے۔



