امریکاتازہ ترین

امریکی بحریہ کے مائن سویپر جہاز مشرقِ وسطیٰ سے ہٹا کر بحرالکاہل منتقل، آبنائے ہرمز سکیورٹی پر سوالات

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی بحریہ کے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے استعمال ہونے والے دو جنگی جہاز یو ایس ایس ٹلسا (USS Tulsa) اور یو ایس ایس سانتا باربرا (USS Santa Barbara) حال ہی میں ملائیشیا کی بندرگاہ میں دیکھے گئے ہیں، حالانکہ یہ دونوں جہاز اس سے قبل مشرقِ وسطیٰ میں تعینات تھے۔ اس پیش رفت نے آبنائے ہرمز اور خلیج میں سمندری سلامتی کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

دفاعی ذرائع کے مطابق یہ دونوں جہاز انڈیپینڈنس کلاس لِٹورل کومبیٹ شپ (LCS) ہیں اور انہیں خاص طور پر سمندری بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے اور انہیں ناکارہ بنانے کے مشنز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ جہاز گزشتہ سال بحرین میں تعینات کیے گئے تھے تاکہ پرانے ایونجر کلاس مائن ہنٹر جہازوں کی جگہ لے سکیں جو اب سروس سے خارج ہو چکے ہیں۔

تاہم حالیہ سیٹلائٹ تصاویر اور مقامی مبصرین کی معلومات کے مطابق یہ دونوں جہاز اب ملائیشیا کی پینانگ بندرگاہ کے نارتھ بٹر ورتھ کنٹینر ٹرمینل میں موجود ہیں۔ اس تبدیلی کی وجہ ابھی واضح نہیں ہو سکی۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے حملوں اور بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً معطل ہو چکی ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ ایران اس اہم سمندری راستے میں بارودی سرنگیں بچھا سکتا ہے، جو عالمی تجارت اور توانائی سپلائی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔

ان جہازوں میں جدید مائن کاؤنٹر میژرز نظام نصب ہیں، جن میں ڈرون کشتیوں، ٹوڈ سونار سسٹم اور ایم ایچ-60 سی ہاک ہیلی کاپٹرز کے ذریعے بارودی سرنگوں کی تلاش اور تباہی کی صلاحیت شامل ہے۔ تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان جہازوں کی محدود تعداد اور پیچیدہ آپریشنل تقاضوں کے باعث سمندری بارودی سرنگوں کو صاف کرنا ایک طویل اور خطرناک عمل ہو سکتا ہے۔

امریکی فوجی حکام نے ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ان جہازوں کو مشرقِ وسطیٰ سے کیوں منتقل کیا گیا۔ بعض مبصرین کے مطابق یہ اقدام حفاظتی وجوہات، سفارتی عوامل یا خطے میں بڑھتے خطرات کے باعث کیا گیا ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں واقعی بارودی سرنگیں موجود ہیں تو انہیں صاف کیے بغیر تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔ اس صورت میں عالمی توانائی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button