
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکا کی بڑی تیل کمپنیوں کے سربراہان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران سے جاری کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والا عالمی توانائی بحران آنے والے دنوں میں مزید سنگین ہو سکتا ہے، خصوصاً اگر آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر رہتی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی متعدد ملاقاتوں کے دوران بڑی آئل کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران نے حکومتی حکام کو بتایا کہ خلیج میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی۔
ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں میں ایکسون موبل، شیورون اور کونوکو فلپس جیسی بڑی امریکی کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔ انہوں نے توانائی کے وزیر کرس رائٹ اور وزیر داخلہ ڈگ برگم سمیت دیگر حکام کو بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی توانائی کی سپلائی میں خلل عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور مائع قدرتی گیس عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہونے سے نہ صرف تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
توانائی صنعت کے نمائندوں نے امریکی حکام کو یہ بھی بتایا کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور سپلائی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔ اس صورتحال میں عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی نے توانائی کی عالمی سپلائی چین کو ایک بار پھر غیر مستحکم کر دیا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی معمول پر نہ آئی تو اس کے اثرات عالمی تیل مارکیٹ کے ساتھ ساتھ ایندھن کی قیمتوں اور صنعتی پیداوار پر بھی پڑ سکتے ہیں۔



