اسرائیلایرانتازہ ترین

ایران جنگ: اسرائیلی حکام میں بڑھتی بے چینی، اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟صورتحال پر سوالات

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے باوجود اسرائیلی حکومتی اور عسکری حلقوں میں جنگ کے مستقبل کے بارے میں تشویش بڑھنے لگی ہے۔ معروف تجزیہ کار David Ignatius کے مطابق بعض اسرائیلی حکام اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ جنگ کو کس طرح ختم کیا جائے، کیونکہ اگرچہ فوجی مہم اپنے بنیادی اہداف کے قریب پہنچ چکی ہے، لیکن اس کے بعد کی صورتحال ابھی تک واضح نہیں۔

امریکی اخبار The Washington Post میں شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ مشترکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے Iran کے جوہری پروگرام کے بڑے حصے، بیلسٹک میزائل ذخائر اور بعض فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی فوج اور سکیورٹی اداروں کے چند اہم رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ان حملوں کا مقصد صرف عسکری اہداف کو تباہ کرنا نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیت کو طویل مدت تک محدود کرنا بھی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ایران کے ہتھیاروں اور فوجی ڈھانچے کو نقصان پہنچا کر اسرائیل اپنے اہم مقاصد کے قریب پہنچ چکا ہے۔” تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران کے مکمل ہتھیار ڈالنے کا امکان کم ہے، البتہ ممکن ہے کہ تہران کسی مرحلے پر جنگ بندی کے اشارے دے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے اخراجات اور اس کے معاشی اثرات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کو ایرانی میزائل حملوں کے خدشات کا سامنا ہے جبکہ عالمی توانائی مارکیٹ میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، جس کے باعث تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

دوسری جانب ایران میں قیادت کی تبدیلی بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے سابق سپریم لیڈر Ali Khamenei کے بعد ان کے بیٹے Mojtaba Khamenei کو نئی قیادت کے طور پر سامنے لایا گیا ہے، جو سخت موقف کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اس تبدیلی کے بعد سفارتی مذاکرات کے امکانات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔

اسرائیلی دفاعی ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو یہ دیگر محاذوں تک بھی پھیل سکتی ہے، خاص طور پر Lebanon میں جہاں Hezbollah کے ساتھ ممکنہ زمینی جنگ ایک طویل اور پیچیدہ تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر جنگ ختم بھی ہو جائے تو اس کے بعد خطے میں طاقت کا توازن کس طرح تبدیل ہوگا۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا ایک ایسے ایران کی بات کر رہا ہے جو اپنے عوام کی خواہشات کی عکاسی کرے، تاہم اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ابھی تک کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button