
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )واشنگٹن: امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں جلد ہی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ ان کے مطابق آنے والے دنوں میں ایران کے خلاف استعمال ہونے والی عسکری طاقت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے ہیڈکوارٹر میں خطاب کرتے ہوئے پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکہ ایران کے حوالے سے اپنی فوجی سرگرمیوں کے وقت اور حکمت عملی پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ ان کے بقول واشنگٹن اپنی کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک امریکہ اپنے طے شدہ مقاصد حاصل نہیں کر لیتا۔
ہیگستھ نے کہا کہ امریکی افواج خطے میں صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید وسائل اور عسکری طاقت استعمال کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق امریکی حکمت عملی کا مقصد خطے میں اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں جانب سے میزائل حملوں، فضائی کارروائیوں اور بحری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے پورا خطہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر امریکہ واقعی ایران کے خلاف اپنی عسکری کارروائیوں میں اضافہ کرتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں خلیجی ممالک، یورپ اور ایشیائی طاقتیں بھی خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں واشنگٹن کی فوجی حکمت عملی اور خطے میں اس کے اتحادیوں کے اقدامات اس تنازع کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔



