تازہ ترینفلسطین

اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کا مغربی کنارے میں کنٹرول مزید سخت کرنے کا فیصلہ، حماس کی مزاحمت تیز کرنے کی اپیل

اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں اپنے کنٹرول کو مزید مضبوط کرنے کے لیے اہم فیصلوں کی منظوری دے دی ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز اور وزیرِ خزانہ بیزلیل اسموٹریچ کے مطابق سیکیورٹی کابینہ نے زمینوں کے اندراج، جائیداد کی خرید و فروخت اور انتظامی اختیارات سے متعلق ایسے اقدامات منظور کیے ہیں جن سے یہودی بستیوں کی توسیع کو نمایاں طور پر آسان بنایا جائے گا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان فیصلوں کا مقصد دہائیوں پرانے قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کو ختم کرنا، اردنی دور کے قوانین منسوخ کرنا اور زمین پر یہودی آبادکاری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مغربی کنارے میں زمینوں کے سرکاری ریکارڈ عوام کے لیے کھول دیے جائیں گے تاکہ ممکنہ خریدار براہِ راست مالکان سے رابطہ کر سکیں۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ خفیہ رکھے جاتے تھے۔

اس کے علاوہ وہ قانونی شق بھی ختم کر دی گئی ہے جو غیر مسلموں کو جائیداد خریدنے سے روکتی تھی۔ اب یہودی شہری نجی طور پر مغربی کنارے میں زمین خرید سکیں گے، جبکہ پہلے انہیں مقامی طور پر رجسٹرڈ کمپنیوں کے ذریعے یہ عمل کرنا پڑتا تھا۔ زمین کی خریداری کے لیے مخصوص لائسنس کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔

علاقوں A اور B میں نگرانی میں توسیع

کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ پانی کے استعمال، ماحولیاتی نقصانات اور آثارِ قدیمہ سے متعلق معاملات میں اسرائیلی نگرانی اور کارروائی کو علاقوں A اور B تک بڑھایا جائے گا۔ اوسلو معاہدے کے تحت یہ علاقے فلسطینی اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، تاہم نئے فیصلوں سے اسرائیلی عمل داری میں اضافہ ہوگا۔

الخلیل اور مقدس مقامات

منصوبے کے تحت الخلیل میں یہودی آبادیوں، خصوصاً حرمِ ابراہیمی (Tomb of the Patriarchs) کے اطراف تعمیراتی اختیارات فلسطینی بلدیہ سے لے کر براہِ راست اسرائیلی دفاعی اداروں کو دے دیے جائیں گے۔ اسی طرح بیت لحم میں مقامِ راحیل (Rachel’s Tomb) کے انتظام کے لیے الگ بلدیاتی اتھارٹی قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

فلسطینی ردعمل اور حماس کا مؤقف

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے ان فیصلوں کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیتے ہوئے امریکا اور اقوامِ متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق عباس نے اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کو لاحق خطرات پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

دوسری جانب حماس نے ان اقدامات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے مغربی کنارے اور یروشلم میں “مزاحمت میں اضافے” اور بغاوت کی اپیل کی ہے۔ حماس نے عرب اور مسلم ممالک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل سے تعلقات منقطع کریں اور اس کے خلاف متحدہ موقف اختیار کریں۔

اسرائیلی آبادکاروں اور سول سوسائٹی کا ردعمل

یہودی آبادکار تنظیم یشا کونسل نے فیصلوں کو “عملاً الحاق” قرار دیتے ہوئے سراہا ہے، جبکہ اسرائیلی امن تنظیم “پیس ناؤ” نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات فلسطینی اتھارٹی کو کمزور اور دو ریاستی حل کو مزید نقصان پہنچائیں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلے مغربی کنارے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں اور خطے میں کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ جنگ کے اثرات پہلے ہی پورے خطے پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button