امریکاتازہ ترین

ایرانی ڈرون خطرہ بڑھنے پر امریکہ کو یوکرین کی پیشکش یاد آ گئی:

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )رپورٹس کے مطابق یوکرین نے گزشتہ سال امریکہ کو ایرانی ساختہ ڈرونز کو تباہ کرنے کے لیے اپنی جنگ میں آزمودہ ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی، تاہم امریکی حکومت نے اس تجویز کو ابتدائی طور پر مسترد کر دیا تھا۔ بعد ازاں ایران کی جانب سے ڈرون حملوں میں اضافے کے بعد واشنگٹن نے اس معاملے پر دوبارہ غور شروع کر دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً سات ماہ قبل یوکرینی حکام نے امریکی حکام کو ایک تفصیلی منصوبہ پیش کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ یوکرین نے روس کے خلاف جنگ کے دوران ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کو ناکارہ بنانے کے لیے جدید دفاعی طریقے تیار کیے ہیں۔ یوکرینی حکام نے اس ٹیکنالوجی کو امریکی افواج اور ان کے اتحادیوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں مفید قرار دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق یوکرین نے اس سلسلے میں ایک تفصیلی پریزنٹیشن بھی تیار کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح یہ نظام امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو ڈرون حملوں سے محفوظ بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم اس وقت امریکی انتظامیہ نے اس پیشکش کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران جب ایرانی ڈرون حملوں کی شدت توقع سے زیادہ سامنے آئی تو امریکی حکام نے اس ٹیکنالوجی کی افادیت کو دوبارہ محسوس کیا۔ اس کے بعد واشنگٹن میں دفاعی حکمت عملی کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے حالیہ جنگ میں ڈرون ٹیکنالوجی کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا ہے جس کے باعث امریکی اور اتحادی افواج کو نئے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی لیے ڈرون دفاعی نظام اب جدید جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔

بعض امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کی پیشکش کو مسترد کرنا جنگ کے دوران ایک اہم حکمت عملی کی غلطی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یوکرینی افواج کو ایرانی ڈرونز کے خلاف عملی تجربہ حاصل ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ڈرون حملوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا پڑے گا، کیونکہ جدید جنگوں میں ڈرونز تیزی سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button