
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ دسویں روز میں داخل ہو گئی ہے، جبکہ مختلف محاذوں پر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق ایران اور خطے کے دیگر ممالک میں کئی اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق سامنے آنے والی ایک ویڈیو فوٹیج، جس کی جانچ پڑتال بعض ذرائع نے کی ہے، یہ ظاہر کرتی ہے کہ جنگ کے پہلے دن ایران کے شہر میناب میں ایک لڑکیوں کے اسکول کے قریب ہونے والا دھماکہ ممکنہ طور پر امریکی کروز میزائل حملے کا نتیجہ تھا۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں تقریباً 175 افراد ہلاک ہوئے جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔ تاہم اس واقعے کے حوالے سے آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کا تبادلہ
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایران میں کئی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جن میں بیلسٹک میزائل لانچنگ سائٹس، راکٹ انجن بنانے والی تنصیبات اور سکیورٹی مراکز شامل ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کے میزائل نظام کو کمزور کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب ایران بھی اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بحرین میں ایک ڈرون حملے کے بعد بیپکو آئل ریفائنری کے قریب آگ بھڑک اٹھی، تاہم حکام نے کہا کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
خطے میں کشیدگی میں اضافہ
اسی دوران عراق میں بغداد اور اربیل کے قریب امریکی تنصیبات کو بھی راکٹ اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان میں سے بعض حملوں کو دفاعی نظام کے ذریعے روک دیا گیا۔
اسرائیل میں ہنگامی طبی اداروں کا کہنا ہے کہ رات کے دوران کئی افراد زخمی ہوئے، جن میں سے زیادہ تر لوگ فضائی حملے کے سائرن کے دوران محفوظ پناہ گاہوں کی طرف جاتے ہوئے زخمی ہوئے یا خوف و ہراس کا شکار ہوئے۔
سیاسی ردعمل اور سفارتی پیغامات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کا فیصلہ اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ مشاورت سے کیا جائے گا۔ دوسری جانب ایران کے پارلیمانی اسپیکر نے واضح کیا ہے کہ تہران فی الحال جنگ بندی کا خواہاں نہیں اور حملوں کا جواب دینے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اسی دوران امریکی سینیٹر لنڈسی گراہم نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے میں احتیاط برتی جائے، کیونکہ مستقبل میں ایران کی معیشت کی بحالی کے لیے یہی شعبہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
خطے میں جنگ کے اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جنگ اب صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہی بلکہ لبنان، خلیجی ممالک اور عراق تک اس کے اثرات پھیل رہے ہیں۔ ایسے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو یہ تنازع پورے مشرقِ وسطیٰ کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دن اس جنگ کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ خطے میں فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سفارتی دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔



