
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ نے اپنی طاقتور بحری فورس کو ایران کے قریب تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں جدید جنگی جہاز یو ایس ایس ٹرپولی آبنائے ہرمز کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام خطے میں طاقت کے توازن اور فوجی دباؤ کو نئی شکل دے سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ امریکی ایمفیبیئس اسالٹ شپ جاپان کے جزیرے کیوشو سے روانہ ہوئی اور جنوبی چین کے سمندر اور آبنائے ملاکا سے گزرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔ اس طویل بحری سفر کو امریکہ کی عالمی سطح پر فوجی رسائی اور تیاری کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
یو ایس ایس ٹرپولی کو امریکی بحری بیڑے کا جدید ترین جہاز سمجھا جاتا ہے، جس کی لمبائی تقریباً 850 فٹ اور وزن 45 ہزار ٹن ہے۔ یہ جہاز بظاہر روایتی طیارہ بردار جہازوں سے چھوٹا ہے، مگر اپنی جدید صلاحیتوں کی بدولت اسے “لائٹ ایئرکرافٹ کیریئر” کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس جہاز کی سب سے بڑی خصوصیت اس پر موجود جدید فضائی پلیٹ فارمز ہیں، جن میں ایف-35 بی اسٹیلتھ لڑاکا طیارے، ایم وی-22 اوسپرے ٹرانسپورٹ طیارے اور لینڈنگ کرافٹس شامل ہیں۔ یہ نظام جہاز کو ساحلی علاقوں میں براہِ راست فوجی کارروائیوں کے قابل بناتا ہے۔
یو ایس ایس ٹرپولی کے ساتھ 31ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ بھی موجود ہے، جس میں تقریباً 2200 میرینز اور بحری اہلکار شامل ہیں۔ یہ فورس تیز رفتار کارروائیوں کے لیے جانی جاتی ہے اور 15 دن تک خود مختار انداز میں پیچیدہ مشنز انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، جن میں انخلاء، ساحلی حملے، چھاپہ مار کارروائیاں اور خصوصی آپریشنز شامل ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مکمل نظام ایک “اسٹرائیک فورس” کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جو نہ صرف ساحلی علاقوں میں تیزی سے کارروائی کر سکتا ہے بلکہ حساس مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے میں اس کی موجودگی عالمی توانائی سپلائی کے تحفظ کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فورس کو ڈرونز کے خلاف کارروائی، تیل بردار جہازوں کی سیکیورٹی اور سمندری راستوں کی نگرانی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح یہ صرف جنگی نہیں بلکہ دفاعی اور اسٹریٹجک کردار بھی ادا کرتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکہ نے اس نوعیت کی فورس تعینات کی ہو۔ اس سے قبل بھی میرین یونٹس مختلف جنگی علاقوں میں انخلاء، انسدادِ قزاقی اور افغانستان میں ابتدائی آپریشنز میں اہم کردار ادا کر چکی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں یو ایس ایس ٹرپولی کی مشرقِ وسطیٰ آمد کو ایک واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ امریکہ نہ صرف خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے بلکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو یہ “اسٹرائیک فورس” خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔



