ایرانتازہ ترین

قشم جزیرے پر امریکی حملہ ناکام؟ ایرانی زیرِ زمین تنصیبات محفوظ رہنے کا دعویٰ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران خلیج فارس میں واقع قشم جزیرے پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ایک اہم زیرِ زمین ٹنل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ابتدائی تجزیوں کے مطابق یہ حملہ اپنی مکمل فوجی کامیابی حاصل نہ کر سکا۔

دستیاب سیٹلائٹ تصاویر اور تجزیاتی رپورٹس کے مطابق امریکی حملے کے نتیجے میں سطح پر واضح نقصان دیکھنے میں آیا، جس میں گڑھے (کریٹرز) بننا اور قریبی تنصیبات کو جزوی نقصان پہنچنا شامل ہے۔ تاہم اس کے باوجود زیرِ زمین مضبوط سرنگی نظام کو نہ تو مکمل طور پر تباہ کیا جا سکا اور نہ ہی اس میں گہرائی تک دراڑیں پڑنے کے شواہد ملے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حملے کا زیادہ تر اثر ٹنلز کے داخلی راستوں کے قریب رہا، لیکن زیرِ زمین ڈھانچے کے اندر کسی بڑے انہدام یا تباہی کے آثار سامنے نہیں آئے۔ اس سے یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں موجود اہم فوجی اثاثے — جن میں تیز رفتار کشتیاں، میزائل سسٹمز اور ڈرونز شامل ہو سکتے ہیں — بڑی حد تک محفوظ رہے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے گزشتہ برسوں میں اپنی حساس عسکری تنصیبات کو زیرِ زمین منتقل کر کے انہیں فضائی حملوں سے بچانے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ یہ سرنگیں عموماً پہاڑی چٹانوں کے اندر گہرائی میں بنائی جاتی ہیں، جو عام بمباری کے خلاف زیادہ مزاحمت رکھتی ہیں۔

قشم جزیرہ جغرافیائی طور پر انتہائی اہم مقام رکھتا ہے کیونکہ یہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے یہاں موجود فوجی تنصیبات کو خطے میں ایران کی دفاعی اور بحری حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کے زیرِ زمین نیٹ ورکس کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے یا تو انتہائی طاقتور بنکر بسٹر ہتھیار درکار ہوتے ہیں یا پھر زمینی کارروائی، جو نہایت پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے کئی حملوں کے باوجود ایسے ڈھانچے اکثر جزوی نقصان کے بعد بھی دوبارہ فعال کیے جا سکتے ہیں۔

رپورٹس یہ بھی اشارہ دیتی ہیں کہ اگرچہ سطحی نقصان واضح ہے، لیکن زیرِ زمین انفراسٹرکچر کی مرمت نسبتاً کم وقت میں ممکن ہو سکتی ہے، جس سے ایران اپنی عسکری صلاحیت کو برقرار رکھنے یا بحال کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید جنگ میں زیرِ زمین عسکری ڈھانچے کس حد تک مؤثر دفاع فراہم کر سکتے ہیں، جبکہ فضائی حملوں کی محدودیت بھی واضح ہوتی جا رہی ہے۔

مجموعی طور پر یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی میں دونوں فریق نہ صرف جدید ہتھیار بلکہ پیچیدہ دفاعی حکمت عملیوں کا استعمال کر رہے ہیں، جس سے جنگ کا دائرہ مزید پیچیدہ اور طویل ہو سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button