
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ): اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے واضح کیا ہے کہ مسئلہ فلسطین اور مقبوضہ بیت المقدس عالمِ اسلام کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ او آئی سی نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ غیر قانونی اقدامات، یہودی بستیوں کی تعمیر اور فلسطینی علاقوں کے الحاق کے منصوبوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
سعودی عرب کے شہر جدہ میں او آئی سی کے جنرل سیکرٹریٹ کا ایک ہنگامی اور غیر معمولی اجلاس جمعرات کے روز منعقد ہوا، جس کا بنیادی مقصد فلسطینی خطوں میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور اسرائیلی جارحیت کا جائزہ لینا تھا۔
اس اہم سفارتی اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے کے اہم ترین نکات درج ذیل ہیں:
غزہ میں جنگ بندی اور صدر ٹرمپ کا امن منصوبہ او آئی سی کے مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں فوری، جامع اور دیرپا جنگ بندی پر مجبور کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی، اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘امن منصوبے’ پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا۔

تنظیم نے زور دیا کہ اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کی طرف فوری قدم بڑھایا جائے، جس میں غزہ سے تمام اسرائیلی افواج کا مکمل انخلاء اور بے گھر ہونے والے لاکھوں فلسطینیوں کی ان کے گھروں کو محفوظ واپسی شامل ہے۔ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عرب، اسلامی اور بین الاقوامی برادری کی حمایت سے، ریاستِ فلسطین کو غزہ کی تمام سرحدی گزرگاہوں کا کنٹرول سنبھالنے اور انہیں معمول کے مطابق کھولنے کی مکمل ذمہ داری دی جانی چاہیے۔
مغربی کنارے کا الحاق اور یہودی بستیاں: اسرائیلی فیصلے مسترد او آئی سی نے صدر ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ عرب اور اسلامی ممالک سے کیے گئے اپنے ان وعدوں کو پورا کریں جن میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر روکنے، مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کو ناکام بنانے اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو روکنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

اجلاس میں اسرائیلی ‘کابینہ’ کے ان حالیہ اور غیر قانونی اعلانات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی گئی جن کا مقصد مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بالخصوص مغربی کنارے اور یروشلم میں نوآبادیاتی اور یہودی بستیوں کا جال بچھانا ہے۔ او آئی سی نے ان اسرائیلی فیصلوں کو کالعدم اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ خطرناک کشیدگی فلسطینی عوام کے تاریخی اور قانونی حقوق پر ایک نیا اور کھلا حملہ ہے۔
عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے ایکشن کا مطالبہ تنظیم نے عالمی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ او آئی سی نے زور دیا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے تمام سفارتی، معاشی، تجارتی، ثقافتی اور پارلیمانی تعلقات منقطع کریں، کیونکہ یہ تعلقات بالواسطہ طور پر اسرائیلی قبضے اور اس کے نوآبادیاتی نظام کو تقویت دے رہے ہیں۔
اعلامیے کے آخر میں عالمی طاقتوں پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے سفارتی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر سخت معاشی اور سیاسی پابندیاں (Sanctions) عائد کریں تاکہ اس طویل اور غیر قانونی قبضے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکے



