امریکاتازہ ترین

جنگ مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی! ایران کی امریکہ کو خطرناک دھمکی

(تازہ حالات رپورٹ )

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر امریکا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرتا ہے تو تہران اپنے اتحادی یا حامی گروہوں کے ذریعے دنیا بھر میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا حکم دے سکتا ہے۔ رپورٹ میں امریکی اور مغربی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے مخصوص منصوبوں کی تصدیق تو نہیں ہوئی، تاہم خفیہ ذرائع سے حاصل ہونے والی گفتگو میں غیر معمولی سرگرمی اور ممکنہ ہم آہنگی کے اشارے ملے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ممکنہ ردعمل میں یمن میں حوثی گروہ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں مغربی تجارتی جہازوں پر حملوں کی دوبارہ شروعات، یا لبنان میں حزب اللہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی جانب سے یورپ میں امریکی اڈوں یا سفارت خانوں کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایرانی قیادت کو یہ محسوس ہوا کہ اس کی بقا کو خطرہ لاحق ہے تو وہ خطے سے باہر بھی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کر سکتی ہے۔ نیویارک میں قائم سوفان سینٹر کے ایک تجزیہ کار کے مطابق ایران براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے “غیر روایتی اور بالواسطہ” طریقوں سے امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ادھر پینٹاگون نے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج کے تحفظ کے لیے اضافی پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام اور دیگر حفاظتی اقدامات کی تیاری تیز کر دی ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ نرم اہداف، جیسے شہری تنصیبات یا سفارتی مراکز، زیادہ حساس ہو سکتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا ایک اور دور جنیوا میں متوقع ہے۔ دوسری جانب امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق خطے میں امریکی جنگی بحری جہاز، طیارہ بردار بیڑے، لڑاکا طیارے اور ایندھن بردار طیارے پہلے ہی تعینات ہیں، جبکہ اردن، عراق، شام اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈے فعال ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی اہم ہے۔ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات سفارتی، معاشی اور سلامتی کے میدانوں میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم حتمی منظرنامہ آئندہ مذاکرات اور دونوں ممالک کے فیصلوں پر منحصر ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button