دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی! چین کے نئے اور خفیہ جوہری تجربے کا انکشاف

(تازہ حالات رپورٹ )
امریکی انٹیلی جنس اداروں کے تازہ اندازوں کے مطابق چین مبینہ طور پر نئی نسل کے جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے اور گزشتہ برسوں کے دوران کم از کم ایک خفیہ جوہری تجربہ بھی کر چکا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ سرگرمیاں چین کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد اپنی جوہری صلاحیت کو ٹیکنالوجی کے اعتبار سے مزید جدید بنانا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جون 2020 میں چین نے شمال مغربی علاقے لب نور (Lop Nur) میں ایک خفیہ جوہری تجربہ کیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس تجربے کا مقصد دوسری نسل کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور ایسے میزائل نظام کی ترقی تھا جو ایک ہی میزائل میں متعدد چھوٹے جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) پہلے بھی خبردار کر چکا ہے کہ چین اپنی جوہری تنصیبات میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔ ایک دفاعی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق بیجنگ اپنی جوہری حکمت عملی کو ازسرِنو ترتیب دے رہا ہے، جس میں امریکہ کو مرکزی عنصر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق چین کم طاقت والے جوہری ہتھیار بھی تیار کر رہا ہے، جنہیں جغرافیائی طور پر قریبی اہداف کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تائیوان کے ممکنہ تنازع کے تناظر میں یہ حکمت عملی اہمیت رکھتی ہے۔
چین نے پہلا جوہری تجربہ 1964 میں کیا تھا اور اگرچہ اس کے پاس روس اور امریکہ کے مقابلے میں کم جوہری وارہیڈز ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں اس کی رفتار تیز رہی ہے۔ ماہرِ اسلحہ کنٹرول جیفری لیوس کے مطابق چین نے ماضی میں محدود تعداد میں تجربات کیے، جس کے باعث ممکن ہے کہ وہ اپنے نئے ہتھیاروں کے ڈیٹا پر مکمل اعتماد نہ رکھتا ہو — یہی وجہ ہے کہ وہ مزید جدید تجربات کی طرف جا رہا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چین اپنی جوہری قوت کو زیادہ محفوظ اور قابلِ بقا بنانے پر بھی توجہ دے رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ حملے کی صورت میں وہ مؤثر جواب دے سکے۔
دوسری جانب چین روایتی طور پر “پہلے استعمال نہ کرنے” (No First Use) کی پالیسی پر کاربند رہا ہے، تاہم مغربی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا بیجنگ کی دفاعی پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے یا نہیں۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بڑی طاقتوں کے درمیان اسلحہ کنٹرول معاہدوں میں پیش رفت نہ ہوئی تو آنے والے برسوں میں ایک نئے جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا خدشہ بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سلامتی پر گہرے ہو سکتے ہیں۔

