
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے دونوں ممالک کے رہنماؤں کے بیانات میں واضح اختلاف سامنے آیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر ٹھوس ضمانتیں درکار ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اس وقت تک لڑائی جاری رکھے گا جب تک اس کے فوجی مقاصد مکمل نہیں ہو جاتے۔
ایرانی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کا مستقل خاتمہ یقینی بنایا جائے اور تہران کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے “جائز حقوق” کو تسلیم کیا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے ان حقوق کی تفصیلات واضح نہیں کیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جنگ میں کامیابی حاصل کر چکا ہے، لیکن اس کے باوجود فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ قبل از وقت جنگ ختم نہیں کرنا چاہتا اور اسے “مشن مکمل ہونے تک” جاری رکھا جائے گا۔
ٹرمپ کے مطابق امریکی اور اتحادی افواج نے جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کے فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں درجنوں ایرانی جنگی بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں اور ایران کی فوجی صلاحیتیں تیزی سے کمزور ہو رہی ہیں۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ فوجی کارروائیوں کا مقصد صرف دفاع تک محدود نہیں بلکہ ایران کی اس صلاحیت کو ختم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف طاقت استعمال کر سکتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ فوجی آپریشن کے دوران ایران کی فضائی اور عسکری صلاحیتوں کو مرحلہ وار کمزور کیا جا رہا ہے اور یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک خطے میں موجود امریکی مفادات کو لاحق خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں فریق اس جنگ کو مختلف انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ ایران جنگ بندی کے لیے سیاسی اور سفارتی ضمانتیں چاہتا ہے، جبکہ امریکہ اس وقت تک فوجی دباؤ برقرار رکھنے کا خواہاں ہے جب تک اس کے اسٹریٹجک اہداف حاصل نہ ہو جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث فوری جنگ بندی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں اور اگر سفارتی کوششیں تیز نہ ہوئیں تو یہ تنازع خطے میں مزید عدم استحکام اور عالمی توانائی مارکیٹ پر دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔



