تازہ ترینمشرق وسطی

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے یو اے ای کا جارحانہ منصوبہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

خلیج میں جاری کشیدہ صورتحال کے دوران متحدہ عرب امارات نے ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن اقدام پر غور شروع کر دیا ہے، جس کے تحت وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھولنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اماراتی حکام نے نہ صرف اس حوالے سے سفارتی سطح پر سرگرمیاں تیز کر دی ہیں بلکہ اپنی عسکری صلاحیتوں کا اندرونی جائزہ بھی مکمل کر لیا ہے۔ اس میں سمندری راستوں کو محفوظ بنانے، بارودی سرنگوں کو صاف کرنے اور جہازوں کی نقل و حرکت بحال کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک قرارداد منظور کروانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے ذریعے اس ممکنہ فوجی کارروائی کو قانونی جواز فراہم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یورپ اور ایشیا کی بڑی طاقتوں کو بھی ایک مشترکہ اتحاد بنانے پر آمادہ کیا جا رہا ہے تاکہ ایران کے خلاف دباؤ بڑھایا جا سکے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کے تیل کی بڑی مقدار اسی اہم سمندری راستے سے گزرتی ہے، جس کے بند ہونے یا غیر محفوظ ہونے سے عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، حالیہ ہفتوں میں ایران کے خلاف زیادہ سخت موقف اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ ممالک امریکہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کو اس وقت تک جاری رکھے جب تک خطے کے لیے خطرہ مکمل طور پر ختم نہ ہو جائے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ جنگ اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو سکتی ہے اور امریکہ جلد ہی اپنی فوجی کارروائیاں محدود یا ختم کر سکتا ہے، چاہے کوئی باضابطہ معاہدہ ہو یا نہ ہو۔ اس متضاد صورتحال نے خطے میں غیر یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ایران کی جانب سے بھی جوابی کارروائیاں جاری ہیں، جن میں خلیجی ممالک اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے ہیں، جس سے یہ تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھولنے کی کوشش کی گئی تو یہ قدم خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کو جنم دے سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خلیج بلکہ عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ کشیدگی سفارتی حل کی طرف جاتی ہے یا ایک بڑے فوجی تصادم میں تبدیل ہو جاتی ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی، تجارت اور سیکیورٹی پر گہرے ہوں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button