ایرانتازہ ترین

متحدہ امارات کا بڑا قدم؟ ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کرنے کی تجویز زیرِ غور

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ابوظہبی: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات ایران کے خلاف مالی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ بین الاقوامی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق اماراتی حکام ملک میں موجود اربوں ڈالر کے ایرانی اثاثے منجمد کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں، جس سے تہران کی عالمی تجارت اور غیر ملکی زرِ مبادلہ تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اماراتی حکام ایسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں جن میں متحدہ عرب امارات میں قائم بعض کمپنیوں کے اثاثے منجمد کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ ان کمپنیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں بعض اوقات مالی لین دین کو خفیہ رکھنے یا پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ غیر رسمی مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی جائے، جن میں مقامی ایکسچینج ہاؤسز اور وہ ادارے شامل ہیں جو بینکاری نظام سے باہر رقوم کی منتقلی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اگر یہ اقدامات کیے گئے تو ان اکاؤنٹس کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اماراتی فیصلہ ساز سمندری سطح پر اقدامات کے امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں، جن میں ایرانی جہازوں کو ضبط کرنے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

ادھر خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس رپورٹ کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے بھی اس بارے میں تبصرے کی درخواست پر فوری ردعمل نہیں دیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حالیہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود بعض امریکی فوجی تنصیبات کی جانب میزائل فائر کیے تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر متحدہ عرب امارات واقعی ایران کے اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس سے نہ صرف تہران کی مالی سرگرمیوں پر اثر پڑ سکتا ہے بلکہ خطے میں اقتصادی اور سفارتی کشیدگی بھی مزید بڑھ سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک اس وقت سکیورٹی اور اقتصادی دونوں سطحوں پر محتاط حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں، کیونکہ جاری تنازع کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں اور علاقائی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت سامنے آنے کا امکان ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button