تازہ ترینمشرق وسطی

یو اے ای نے پیٹروکیمیکل پلانٹ پر ایرانی حملہ ناکام بنا دیا،

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک بڑے حملے کو ناکام بنا دیا، جس میں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے ابو ظہبی کے الرویس صنعتی علاقے میں واقع بروج پیٹروکیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا۔ حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے زیادہ تر حملوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم گرنے والے ملبے کے باعث پلانٹ کے کچھ حصوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ فوری کارروائی کے ذریعے آگ پر قابو پا لیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر پلانٹ کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں تاکہ نقصان کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔

بروج پیٹروکیمیکل کمپنی خطے کی ایک بڑی صنعتی تنصیب ہے جو دنیا بھر کے 50 سے زائد ممالک کو مصنوعات فراہم کرتی ہے، جبکہ اس کے لاجسٹک مراکز مشرق وسطیٰ، یورپ، ایشیا اور شمالی افریقہ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے پلانٹ پر حملہ عالمی سپلائی چین کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک یو اے ای نے سینکڑوں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ہزاروں ڈرون حملوں کو ناکام بنایا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں دفاعی نظام مسلسل متحرک اور دباؤ میں ہے۔

رپورٹس کے مطابق اب تک ان حملوں میں درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں، جن میں مختلف قومیتوں کے افراد شامل ہیں۔ زیادہ تر نقصانات فضائی دفاعی کارروائیوں کے دوران گرنے والے ملبے کی وجہ سے ہوئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں اس نوعیت کے حملے نہ صرف سیکیورٹی بلکہ توانائی اور صنعتی شعبے کے لیے بھی بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ مسلسل حملوں کے باعث اہم تنصیبات خطرے کی زد میں ہیں، جبکہ ان کی حفاظت کے لیے وسائل اور اقدامات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، اور اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال یہی رہی تو توانائی مارکیٹس اور عالمی معیشت پر بھی اس کے اثرات مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید جنگ اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ صنعتی، معاشی اور شہری ڈھانچے بھی اس کی لپیٹ میں آ رہے ہیں، جس سے خطے میں عدم استحکام کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button