ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنائی کا پہلا بیان

انتقام تک جنگ جاری رہے گی ۔ سرنڈر نہیں کریں گے
دوست ملکوں پر نہیں امریکی اڈوں پر حملے کیے !
(تہران/ تازہ حالات خصوصی رپورٹ ) ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنائی کا سپریم لیڈر بننے کے بعد پہلا بیان سامنے آیا ہے۔وہ 28 فروری کو امریکی اسرائیلی بمباری میں اپنے والد سپریم لیڈر علی خامنائی کی شہادت کے بعد ایران کے سپریم لیڈر منتخب ہوئے۔ مجتبی خامنائی نے اپنے پہلے تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ ایران دشمنوں کے خلاف انتقام تک جنگ جاری رہے گی اور ایران اپنا دفاع جاری رکھے گا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کی خواہش ہے کہ دفاع جاری رکھا جائے اور دشمن کو ایسا جواب دیا جائے جس سے وہ پشیمان ہو۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے دباؤ کے ذریعے کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان دوسرے محاذوں کے بارے میں بھی غور و مطالعہ کیا گیا ہے جہاں دشمن کا تجربہ نہایت کم ہے اور وہ شدید طور پر کمزور ہو سکتا ہے۔ اگر جنگی حالات برقرار رہے اور حالات کے تقاضوں کے مطابق ضرورت پڑی تو ان محاذوں کو بھی فعال کیا جا سکتا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں ایران کے حامی مزاحمتی گروپس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران مزاحمتی اتحادی گروپس والے ممالک کو اپنا بہترین دوست سمجھتا ہے اور مزاحمت اور مزاحمتی اتحاد اسلامی انقلاب کی بنیادی اقدار کا لازمی حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمتی اتحاد کے مختلف حصوں کا باہمی تعاون صہیونی فتنے سے نجات کے راستے کو مختصر بنا دیتا ہے۔ ان کے مطابق بہادر اور ایمان والے یمن نے مظلوم غزہ کے عوام کے دفاع سے ہاتھ نہیں اٹھایا، جبکہ حزب اللہ نے تمام رکاوٹوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کی مدد کے لیے قدم بڑھایا ہے۔ اسی طرح عراق کی مزاحمت نے بھی بہادری کے ساتھ یہی راستہ اختیار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے شہداء کے خون کا بدلہ لینے سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق یہ انتقام صرف انقلاب کے عظیم رہنما کی شہادت تک محدود نہیں بلکہ ایران کی قوم کا ہر فرد جو دشمن کے ہاتھوں شہید ہوتا ہے، اس کے خون کا بدلہ لینا بھی ضروری ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ اب تک شہداء کے خون کے انتقام کا ایک محدود حصہ عملی طور پر سامنے آ چکا ہے، لیکن جب تک اس کا مکمل بدلہ نہیں لیا جاتا یہ معاملہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے جان بوجھ کر میناب کے مدرسہ شجرہ طیّبہ اور اسی طرح کے دیگر واقعات میں جو جرم کیا ہے اس کی خصوصی اہمیت کے ساتھ جانچ کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران دشمن سے ہرجانہ وصول کرے گا۔ اگر دشمن اس سے انکار کرے گا تو جتنا مناسب سمجھا جائے گا اتنا اس کے اموال سے لیا جائے گا، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہوا تو اسی مقدار کے برابر اس کے اموال کو تباہ کر دیا جائے گا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ دشمن نے کئی برس پہلے سے بعض ہمسایہ ممالک میں فوجی اڈے قائم کیے ہوئے ہیں اور حالیہ حملوں میں ان میں سے کچھ اڈے استعمال کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ پہلے واضح طور پر خبردار کیا گیا تھا، اور ان ممالک کے خلاف کسی قسم کی جارحیت کیے بغیر، ایران نے صرف انہی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے خطے کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران پر حملہ کرنے والوں اور ایرانی عوام کے قاتلوں کے بارے میں اپنا موقف واضح کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک کو جلد از جلد ان فوجی اڈوں کو بند کر دینا چاہیے کیونکہ امریکہ کی جانب سے امن اور سلامتی قائم کرنے کے دعوے جھوٹ ثابت ہو چکے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں کسی قسم کی بالادستی یا نوآبادیاتی نظام قائم کرنا نہیں چاہتا بلکہ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اتحاد اور گرمجوش و مخلصانہ تعلقات کے لیے مکمل آمادگی رکھتا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ میدان میں مؤثر موجودگی کو برقرار رکھنا ضروری ہے، چاہے وہ اسی طرح ہو جیسے جنگ کے دنوں اور راتوں میں دکھایا گیا یا دیگر مؤثر کردار ادا کرنے کی صورت میں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ یوم قدس 1447 کی تقریبات میں بھرپور شرکت کریں اور دشمن کو شکست دینے کے جذبے کو مضبوط کریں۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا:
“اے رہبر! ہم آپ سے عہد کرتے ہیں کہ اس پرچم کی سربلندی کے لیے — جو حق کے محاذ کا اصل پرچم ہے — اور آپ کے مقدس مقاصد کے حصول کے لیے ہم اپنی پوری توانائی کے ساتھ کوشش کریں گے۔”



