تازہ ترینرشیا یوکرین

یوکرین کا بڑا دعویٰ — روس کے ’پینٹسیر‘ دفاعی نظام کو بھاری نقصان، محاذ پر نیا موڑ

یوکرین کی سکیورٹی سروس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی خصوصی یونٹ نے روس کے جدید اور کلیدی فضائی دفاعی نظام Pantsir کا تقریباً نصف حصہ تباہ یا ناکارہ بنا دیا ہے۔ حکام کے مطابق ایک پینٹسیر نظام کی مالیت 15 سے 20 ملین ڈالر کے درمیان ہوتی ہے اور اسے یوکرینی طویل فاصلے کے ڈرونز کے خلاف روس کا مؤثر دفاعی ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔

یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ اس “منظم تباہی” کا مقصد روسی فضائی دفاع کو کمزور کر کے گہرائی میں موجود فوجی اہداف — جیسے ہوائی اڈے، گودام اور اسلحہ ڈپو — کو زیادہ مؤثر انداز میں نشانہ بنانا ہے۔ آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

روسی علاقوں میں حملے

یوکرین کی فوج نے جنوبی روس کے کراسنوڈار کرائی میں تمان نیفٹی گاز آئل ٹرمینل پر حملے کی تصدیق کی ہے، جہاں آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ اسی دوران مقبوضہ کریمیا میں ایک Pantsir-S1 سسٹم کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں، یوکرینی افواج نے روسی بحریہ کی BK-16 لینڈنگ کرافٹ کو کریمیا کے علاقے نوو اوزیرنے میں نشانہ بنانے اور ڈونیٹسک و زاپوریژیا کے مقبوضہ علاقوں میں اسلحہ گودام اور مواصلاتی تنصیبات پر ضرب لگانے کا اعلان کیا۔

اس سے قبل یوکرین نے کریمیا کے قریب روسی 55Zh6U “Nebo-U” ریڈار اسٹیشن کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جس کی مالیت تقریباً 100 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔

سفارتی محاذ: میونخ میں سرگرمیاں

میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے فضائی دفاعی میزائلوں کی فراہمی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور جنیوا میں مجوزہ سہ فریقی مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا۔
زیلنسکی نے واضح کیا کہ یوکرین علاقائی رعایتوں کے ذریعے امن قبول نہیں کرے گا، اور 1938 کے میونخ معاہدے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ “تقسیم کبھی پائیدار امن نہیں لاتی۔”

ہلاکتوں کے اعداد و شمار

روسی آزاد میڈیا ادارے میڈیازونا اور بی بی سی روسی سروس نے دعویٰ کیا ہے کہ 24 فروری 2022 سے اب تک روس کے 1,77,433 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ تاہم حقیقی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب، یوکرین کے جنرل اسٹاف کا اندازہ ہے کہ روس کو مجموعی طور پر 12 لاکھ سے زائد فوجی نقصانات (ہلاک، زخمی یا لاپتا) ہو چکے ہیں، اگرچہ ماسکو سرکاری طور پر اعداد و شمار جاری نہیں کرتا۔

تجزیہ

ماہرین کے مطابق اگر پینٹسیر نظام کی بڑی تعداد واقعی ناکارہ ہو چکی ہے تو روسی دفاعی نظام میں خلاء پیدا ہو سکتا ہے، جس سے یوکرین کو طویل فاصلے کے حملوں میں برتری مل سکتی ہے۔ تاہم جنگی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور دونوں فریق اپنی عسکری حکمت عملی میں مسلسل تبدیلی لا رہے ہیں۔


خلاصہ

یوکرین کا دعویٰ: روس کے “Pantsir” فضائی دفاعی نظام کا نصف حصہ تباہ۔

روسی آئل ٹرمینل، بحری کرافٹ اور دیگر عسکری اہداف پر حملوں کی تصدیق۔

میونخ میں زیلنسکی اور امریکی حکام کی ملاقات، امن مذاکرات کی تیاری جاری۔

آزاد میڈیا کے مطابق روسی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 1.77 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button