یوکرین کو نیٹو سے مالی مدد میں مشکلات، دفاعی تیاری متاثر ہونے کا خدشہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
یوکرین کو جاری جنگ کے دوران اپنے دفاع کو برقرار رکھنے کے لیے امریکی ہتھیاروں کی ضرورت ہے، تاہم اب اسے نیٹو اتحادی ممالک سے مالی مدد حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس سے اس کی جنگی حکمت عملی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یوکرین نئی مالی یقین دہانیاں حاصل کرنے کے لیے مسلسل کوشش کر رہا ہے، لیکن فی الحال صرف چند ممالک ہی امریکی ہتھیاروں کی خریداری کے لیے مالی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ بار بار انہی ممالک سے مدد طلب کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ نئے شراکت دار سامنے نہیں آ رہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں امریکہ کی عالمی ترجیحات میں تبدیلی، خاص طور پر ایران جنگ کی وجہ سے، یوکرین کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں یورپی ممالک پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ زیادہ مالی بوجھ اٹھائیں، تاہم ان کی صلاحیت اور آمادگی محدود دکھائی دیتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق نیٹو ممالک پہلے ہی یوکرین کے لیے اربوں ڈالر کی امداد کا اعلان کر چکے ہیں، لیکن یہ امداد مسلسل اور پائیدار نہیں ہے، جس کے باعث یوکرین کو اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے میں چیلنجز درپیش ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یورپ نے حالیہ برسوں میں امریکہ کے مقابلے میں زیادہ مالی ذمہ داری اٹھانے کی کوشش کی ہے، لیکن جدید اور حساس ہتھیاروں کی فراہمی اب بھی بڑی حد تک امریکہ پر ہی منحصر ہے، جس کے بغیر یوکرین کی دفاعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید برآں، امریکی ہتھیاروں کے لیے ایک مخصوص نظام کے تحت نیٹو اتحادی ممالک ادائیگی کرتے ہیں، جس کے ذریعے یوکرین کو جدید دفاعی نظام فراہم کیے جاتے ہیں۔ تاہم اس نظام میں بھی فنڈنگ کی کمی اور تاخیر جیسے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یوکرین کو بروقت مالی اور عسکری مدد نہ ملی تو اس کی جنگی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روسی دباؤ برقرار ہے اور عالمی توجہ دیگر تنازعات کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یوکرین کے لیے صرف فوجی نہیں بلکہ مالی جنگ بھی جاری ہے، جہاں اتحادیوں کی مسلسل حمایت اس کے دفاع کے لیے انتہائی اہم ہے۔



