یوکرین کی خفیہ ڈرون جنگی صلاحیت سامنے آگئی، جدید جنگ کا نیا چہرہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
یوکرین میں جاری جنگ نے جدید عسکری حکمت عملی کو ایک نئی سمت دے دی ہے، جہاں ڈرون ٹیکنالوجی نے جنگی میدان میں غیر معمولی اہمیت حاصل کر لی ہے۔ حالیہ مشاہدات اور عینی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین نے کم لاگت مگر انتہائی مؤثر ڈرون نظام کے ذریعے ایک طاقتور جنگی نیٹ ورک قائم کر لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یوکرین کے مختلف محاذوں پر تعینات نوجوان ڈرون پائلٹس روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں انجام دے رہے ہیں، جن میں سے بعض نے سینکڑوں کامیاب مشنز مکمل کیے ہیں۔ ایک 21 سالہ پائلٹ کو تقریباً ایک ہزار کامیاب ڈرون مشنز کے بعد ملک کا اعلیٰ ترین اعزاز بھی دیا جا چکا ہے، جو اس ٹیکنالوجی کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین میں ڈرونز نہ صرف نگرانی بلکہ حملوں کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں، اور یہ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان ڈرونز کی لاگت نسبتاً کم ہے اور انہیں میدان جنگ میں ہی چند منٹوں میں تیار کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ یوکرین میں نجی تنظیمیں اور عام شہری بھی اس جنگی کوشش میں شامل ہیں۔ ایک غیر سرکاری تنظیم نے عالمی سطح پر فنڈنگ حاصل کر کے لاکھوں ڈالر جمع کیے، جن سے ڈرون کے پرزہ جات خرید کر فوری طور پر جنگی استعمال کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یوکرین نے زیر زمین جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز قائم کیے ہیں، جہاں سے بیک وقت درجنوں ڈرون آپریشنز کو مانیٹر اور کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ان مراکز میں جدید اسکرینز اور ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے حقیقی وقت میں کارروائیوں کی نگرانی کی جاتی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ماڈل مستقبل کی جنگوں کا نیا معیار بن سکتا ہے، جہاں کم لاگت، تیز رفتار اور ٹیکنالوجی پر مبنی حکمت عملی روایتی ہتھیاروں پر سبقت لے جائے گی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کا یہ تجربہ دنیا بھر کی افواج کے لیے ایک سبق ہے، جو آنے والے وقت میں اپنی دفاعی پالیسیوں کو ڈرون ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔



