
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خلیجی ممالک اور اردن پر ہونے والے ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کر لی ہے۔ اس قرارداد کو 13 ووٹوں کی حمایت حاصل ہوئی جبکہ روس اور چین نے ووٹنگ سے گریز کیا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک اور اردن پر کیے گئے حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔ سلامتی کونسل نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر خلیجی ریاستوں اور اردن کے خلاف حملے، دھمکیاں اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے۔
اقوام متحدہ میں قطر کی نمائندہ شیخہ عالیہ آل ثانی نے کہا کہ قطر پر ایرانی حملے غیر ضروری اور خطرناک کشیدگی کا باعث ہیں۔ ان کے مطابق ان حملوں نے نہ صرف شہریوں کو خطرے میں ڈالا بلکہ اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچایا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے اقدامات پر سخت ردعمل نہ دیا گیا تو یہ پیغام جائے گا کہ غیر متعلقہ ممالک پر حملے کے کوئی نتائج نہیں ہوتے۔
سعودی عرب کے نمائندے عبدالعزیز الواسل نے بھی ایران کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات کشیدگی کم کرنے کے بجائے خطے میں تناؤ کو مزید بڑھا رہے ہیں اور اچھے ہمسایہ ممالک کے اصولوں کے خلاف ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے نمائندے محمد ابو شہاب نے کہا کہ ان کا ملک کشیدگی نہیں چاہتا، تاہم اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق امارات کے دفاعی نظام نے ممکنہ نقصان کو کافی حد تک محدود رکھا۔
اسی طرح کویت کے نمائندے ناصر الہین نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے لیے کویتی سرزمین استعمال کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کویت کی خودمختاری اور سرحدیں ایک سرخ لکیر ہیں اور سلامتی کونسل کو ایرانی حملوں کے معاملے میں واضح اور مؤثر موقف اختیار کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ گزشتہ 12 دنوں کے دوران ایران نے خلیجی ممالک، عراق اور اردن میں امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ان حملوں کے نتیجے میں بعض علاقوں میں جانی و مالی نقصان ہوا اور اہم تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔
ماہرین کے مطابق سلامتی کونسل کی یہ قرارداد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی قدم ہے، تاہم اس کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فریقین مستقبل میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کس حد تک تیار ہوتے ہیں۔



