ایرانتازہ ترین

امریکا نے طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘ کو مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کر لیا

امریکی حکام کے مطابق امریکا نے اپنے جدید طیارہ بردار بحری جہاز USS Gerald R. Ford اور اس کے ہمراہ موجود جنگی بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بحری جہاز اس وقت کیریبین خطے میں تعینات تھا، تاہم اب اسے خلیج فارس کی طرف روانہ کیا جائے گا اور امکان ہے کہ یہ اپریل کے آخر یا مئی کے آغاز تک اپنے ہوم پورٹ واپس نہیں لوٹے گا۔

چار امریکی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جہاز کے عملے کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام خطے میں ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کی امریکی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

خلیج فارس میں دوسرا طیارہ بردار بیڑا

اطلاعات کے مطابق فورڈ اسٹرائیک گروپ خلیج فارس میں پہلے سے موجود USS Abraham Lincoln کیریئر اسٹرائیک گروپ کے ساتھ شامل ہوگا۔ صدر Donald Trump اس ہفتے اشارہ دے چکے تھے کہ وہ خطے میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنا چاہتے ہیں، تاہم اس وقت جہاز کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

فوجی ماہرین کے مطابق ایک ہی وقت میں دو امریکی طیارہ بردار بیڑوں کی خلیج فارس میں موجودگی ایران کے لیے واضح پیغام سمجھی جاتی ہے، کیونکہ اس سے فضائی اور بحری طاقت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔

تعیناتی کا پس منظر

جیرالڈ آر فورڈ نے 24 جون کو امریکی ریاست ورجینیا کے شہر نورفوک سے روانگی اختیار کی تھی۔ ابتدائی طور پر اس کی تعیناتی یورپ کے لیے تھی، لیکن بعد ازاں اسے کیریبین منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ وینزویلا کے حوالے سے امریکی پالیسی کے تناظر میں سرگرم رہا۔

رپورٹس کے مطابق اس جہاز کے طیاروں نے جنوری میں کراکس میں ایک کارروائی میں حصہ لیا تھا۔ موجودہ تعیناتی پہلے ہی ایک بار بڑھائی جا چکی ہے اور عملہ مارچ کے اوائل میں وطن واپسی کی توقع کر رہا تھا۔

شیڈول پر اثرات

نئی تعیناتی کے باعث جہاز کی ورجینیا میں طے شدہ مرمتی اور اپ گریڈنگ سرگرمیوں میں مزید تاخیر کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بحری ذرائع کے مطابق طویل تعیناتی عملے اور لاجسٹک نظام پر بھی دباؤ ڈال سکتی ہے۔

خطے پر ممکنہ اثرات

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحری طاقت کی بڑھتی موجودگی خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔ یہ اقدام سفارتی پیغامات، دفاعی تیاری اور ممکنہ عسکری ردعمل — تینوں حوالوں سے معنی رکھتا ہے۔

آنے والے ہفتوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ تعیناتی محض دباؤ کی حکمتِ عملی ہے یا خطے میں کسی بڑی پیش رفت کا پیش خیمہ۔ فی الحال عالمی نظریں خلیج فارس کی بدلتی صورتحال پر مرکوز ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button