
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
دوحہ/ریاض/ابوظہبی: اسرائیل کی جانب سے ایران کے سب سے بڑے گیس فیلڈ پر حملے کے بعد تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک کی اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اور عالمی تیل منڈی میں بے چینی پیدا ہو گئی۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں واقع اہم آئل و گیس تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ان حملوں کے نتیجے میں بعض مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور “وسیع نقصان” کی اطلاعات سامنے آئیں، خاص طور پر قطر کے راس لفان صنعتی علاقے میں واقع دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی ٹرمینل کو نشانہ بنایا گیا۔
قطر اور خلیجی ممالک کا سخت ردعمل
قطری حکام نے ان حملوں کو “خطرناک پیش رفت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی اپنی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی اور اسے علاقائی استحکام کے خلاف اقدام قرار دیا۔
ایران کا مؤقف اور وارننگ
ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے حملے کے بعد خلیجی ممالک کی بعض تنصیبات “جائز اہداف” بن چکی ہیں۔ ایران نے اس سے قبل ان ممالک کو متنبہ کیا تھا کہ وہ اس تنازع میں شامل نہ ہوں، بصورت دیگر انہیں نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عالمی توانائی مارکیٹ پر اثرات
ماہرین کے مطابق ان حملوں کے فوری بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ امریکی مارکیٹ میں تیل کی قیمت تقریباً 3 فیصد بڑھ کر 99 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ عالمی سطح پر قیمت 108 ڈالر فی بیرل کے قریب جا پہنچی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر توانائی تنصیبات پر حملے جاری رہے تو عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ خلیجی خطہ دنیا کی تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم مرکز ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید سنگین
اس تمام صورتحال کے درمیان آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، عملی طور پر شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ گزرگاہ متاثر ہوتی ہے تو عالمی معیشت کو بڑے جھٹکے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ کا ردعمل
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے ایران کو خبردار کیا کہ اگر قطر کی گیس تنصیبات پر دوبارہ حملہ ہوا تو سخت جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مزید تباہی نہیں چاہتے، تاہم ضرورت پڑنے پر فیصلہ کن اقدام کیا جا سکتا ہے۔
خطہ خطرناک موڑ پر
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا اس تنازع کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں لے جا رہا ہے، جہاں نہ صرف فوجی بلکہ معاشی جنگ بھی شدت اختیار کر رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو اس کے اثرات عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں، تجارتی راستوں اور معیشت پر واضح طور پر محسوس کیے جائیں گے، جبکہ سفارتی کوششیں اس وقت انتہائی اہم ہو چکی ہیں۔



