امریکاتازہ ترین

پائلٹ کو بچا کر امریکی جہاز ایران سے نکل گئے،

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران کے ایک دور افتادہ پہاڑی علاقے میں گرنے والے امریکی پائلٹس کو بچانے کے لیے امریکا کی جانب سے کی گئی ایک پیچیدہ اور خطرناک فوجی کارروائی کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس میں بھاری نقصان کے باوجود دونوں پائلٹس کو زندہ نکالنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

مقامی ایرانی ذرائع کے مطابق امریکی طیارے ریسکیو آپریشن کے بعد علاقے سے تیزی سے نکلتے دیکھے گئے، جبکہ امریکی حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کے اندر گرنے والے دونوں پائلٹس کو کامیابی کے ساتھ ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حادثے کے بعد ایک امریکی پائلٹ ایک بلند پہاڑ کی چوٹی تک پہنچ گیا، جہاں سے اس نے مدد کے لیے امریکی فوج سے رابطہ کیا۔ پائلٹ کے پاس موجود GPS ڈیوائس نے امریکی فورسز کو اس کی درست لوکیشن فراہم کی، جس کے بعد فوری طور پر ریسکیو مشن شروع کیا گیا۔

ابتدائی طور پر دن کے وقت کیے گئے آپریشن کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور ایک A-10 جنگی طیارہ تباہ ہو گئے جبکہ کئی امریکی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ اس صورتحال کے بعد امریکا نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے رات کے اندھیرے میں دوسرا آپریشن شروع کیا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق رات کے وقت کیے گئے آپریشن میں خفیہ نقل و حرکت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے اہم کردار ادا کیا۔ چونکہ یہ علاقہ پہاڑی اور غیر آباد تھا، اس لیے امریکی فورسز کو محدود مزاحمت کے باوجود کارروائی مکمل کرنے میں مدد ملی، اگرچہ ایرانی فورسز کی جانب سے مزاحمت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

ریسکیو مشن میں امریکی فوج نے C-130 ٹرانسپورٹ طیارے بھی استعمال کیے۔ اطلاعات کے مطابق دو امریکی ٹرانسپورٹ جہاز ایک دور دراز مقام پر تکنیکی خرابی کے باعث اڑان بھرنے کے قابل نہ رہے، جس پر انہیں تباہ کر دیا گیا تاکہ وہ مخالف کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔ بعد ازاں مزید طیارے طلب کیے گئے اور تمام اہلکاروں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے ریسکیو آپریشنز انتہائی حساس اور خطرناک ہوتے ہیں، جہاں وقت، معلومات اور جغرافیہ تینوں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس واقعے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جدید جنگی حالات میں ایک پائلٹ کو بچانے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر وسائل استعمال کیے جاتے ہیں اور اس دوران بھاری نقصان کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران کسی بھی فوجی کارروائی کے اثرات نہ صرف فوری بلکہ طویل المدتی بھی ہو سکتے ہیں، جبکہ ایسے آپریشنز عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button