تازہ ترین

کیریبین میں امریکی حملہ، کشتی پر میزائل فائرنگ سے تین افراد ہلاک

(تازہ حالات رپورٹ )

امریکی فوج نے کیریبین سمندر میں ایک کشتی کو نشانہ بنا کر تین افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ امریکی سدرن کمانڈ United States Southern Command (ساؤتھ کام) کے مطابق جمعے کے روز کیے گئے اس حملے میں “مہلک کائنیٹک اسٹرائیک” کے ذریعے کشتی کو تباہ کیا گیا۔

ساؤتھ کام نے دعویٰ کیا کہ نشانہ بنائے گئے افراد منشیات اسمگلنگ میں ملوث تھے اور انہیں “نارکو دہشت گرد” قرار دیا، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی تفصیلی شواہد جاری نہیں کیے گئے۔ جاری کردہ ویڈیو میں ایک میزائل کشتی کو نشانہ بناتے ہوئے دکھائی دیتا ہے جس کے بعد وہ آگ کے شعلوں میں لپٹ جاتی ہے۔

حملوں کا سلسلہ جاری

میڈیا مانیٹرز کے مطابق ستمبر 2025 سے اب تک کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں امریکی کارروائیوں میں کم از کم 133 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکا اب تک تقریباً 40 کشتیوں کے خلاف 38 حملے کر چکا ہے۔

اسی ہفتے مشرقی بحرالکاہل میں بھی ایک کارروائی کی گئی تھی، جس میں دو افراد ہلاک ہوئے اور ایک شخص کے زندہ بچنے کی اطلاع دی گئی۔ ساؤتھ کام نے کہا کہ اس نے امریکی کوسٹ گارڈ کو زندہ بچ جانے والے فرد سے متعلق آگاہ کیا ہے، تاہم اس کی حالت یا ریسکیو کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

قانونی اور انسانی حقوق کے خدشات

بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے ماہرین نے ان حملوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ منشیات اسمگلنگ ایک سنگین جرم ہے، لیکن بین الاقوامی پانیوں میں بغیر عدالتی کارروائی کے ہلاکتیں “ماورائے عدالت قتل” کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں ایک کارروائی کے دوران ایک تباہ شدہ کشتی کے ملبے سے چمٹے زندہ بچ جانے والوں کو دوبارہ نشانہ بنانے کے فیصلے پر بھی شدید تنقید ہوئی تھی۔ اس معاملے میں اس وقت کے امریکی وزیرِ دفاع Pete Hegseth اور آپریشن کے کمانڈر ایڈمرل فرینک بریڈلی کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

واشنگٹن کا مؤقف

امریکی صدر Donald Trump کا کہنا ہے کہ امریکا لاطینی امریکا میں کارٹیلز کے خلاف “مسلح تنازع” کی کیفیت میں ہے اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔

دوسری جانب قانونی ماہرین کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں فوجی حملوں کے لیے واضح قانونی بنیاد درکار ہوتی ہے، اور کسی بھی مشتبہ شخص کو قانونی کارروائی کا حق حاصل ہے۔

بڑھتی ہوئی بحث

حالیہ حملے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا منشیات کے خلاف جنگ کے نام پر فوجی طاقت کا استعمال بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کارروائیاں جاری رہتی ہیں تو عالمی سطح پر سفارتی اور قانونی چیلنجز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button