
چین امریکا جنگ شروع
سیول/بیجنگ:(تازہ حالات رپورٹ ) انڈو پیسیفک خطے میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک کشیدگی کے دوران زرد سمندر (یلو سی) کے اوپر امریکی اور چینی جنگی طیاروں کے درمیان مختصر فضائی آمنا سامنا ہوا، تاہم واقعہ کسی تصادم یا خلاف ورزی کے بغیر ختم ہوگیا۔
جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق 18 فروری کو امریکی فورسز کوریا (USFK) کے ایف-16 لڑاکا طیاروں نے اوسان ایئر بیس سے پرواز کی۔ یہ اڈہ سیول سے تقریباً 60 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ طیاروں نے جنوبی کوریا کے مغربی ساحل کے قریب بین الاقوامی فضائی حدود میں بڑے پیمانے کی فضائی مشق میں حصہ لیا۔ ذرائع کے مطابق مشق میں چند سے لے کر تقریباً 10 تک طیارے شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی طیارے جنوبی کوریا کے ایئر ڈیفنس آئیڈنٹیفکیشن زون (KADIZ) اور چین کے ایئر ڈیفنس آئیڈنٹیفکیشن زون (CADIZ) کے درمیان فضائی پٹی میں سرگرم رہے۔ یونہاپ نے واضح کیا کہ امریکی طیاروں نے نہ تو کسی زون میں داخل ہونے کی خلاف ورزی کی اور نہ ہی چین کے دفاعی شناختی زون میں باضابطہ داخل ہوئے۔

تاہم جیسے ہی امریکی طیاروں کا دستہ CADIZ کی حدود کے قریب پہنچا، چین نے بھی اپنے جنگی طیارے فضا میں بھیج دیے، جس کے نتیجے میں دونوں جانب کے طیاروں کے درمیان عارضی طور پر “فیس آف” کی صورتحال پیدا ہوئی۔ یہ آمنا سامنا مختصر وقت تک جاری رہا اور کسی ناخوشگوار واقعے کے بغیر ختم ہوگیا۔
اطلاعات کے مطابق نہ کوئی گولی چلی، نہ کسی ملک کی خودمختار فضائی حدود کی خلاف ورزی ہوئی اور نہ ہی کسی طیارے کو نقصان پہنچا۔ 20 فروری تک نہ امریکی فوج اور نہ ہی چینی وزارت دفاع کی جانب سے اس واقعے کی باضابطہ تصدیق یا تفصیلی بیان جاری کیا گیا۔
ایئر ڈیفنس زون کیوں اہم ہیں؟
ایئر ڈیفنس آئیڈنٹیفکیشن زون دراصل خودمختار فضائی حدود نہیں ہوتے بلکہ یہ ابتدائی وارننگ بفر زون ہوتے ہیں جہاں داخل ہونے والے طیاروں کو اپنی شناخت ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق KADIZ اور CADIZ کے درمیان تنگ فضائی پٹی میں مشقیں کرنا قانونی طور پر ممکن ہے، لیکن عملی طور پر یہی علاقے حساس “آپریشنل پریشر پوائنٹس” بن چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں اور طاقت کا توازن خطے میں ایسے واقعات کے امکانات بڑھا رہا ہے۔ تاہم اس واقعے میں دونوں جانب کی احتیاط اور قواعد کی پابندی نے صورتحال کو بگڑنے سے روک دیا۔
زرد سمندر کا یہ واقعہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ انڈو پیسیفک میں فوجی نقل و حرکت کس قدر نازک توازن پر قائم ہے، جہاں معمولی غلط فہمی بھی بڑے بحران کا سبب بن سکتی ہے۔



