
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر شہری علاقوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو ایسے مقامات کو ممکنہ طور پر فوجی اہداف تصور کیا جا سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔
سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی حکام گنجان آباد شہری علاقوں سے ڈرون اور بیلسٹک میزائل داغنے کے لیے فوجی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ امریکی کمانڈ کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں عام شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر کسی شہری مقام کو فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو وہ مقام بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی حفاظتی حیثیت کھو دیتا ہے اور اسے فوجی ہدف سمجھا جا سکتا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی قیادت نہ صرف خطے میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنا رہی ہے بلکہ اپنی فوجی کارروائیوں کے ذریعے اپنے ہی شہریوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
سینٹکام نے ایران کے شہریوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
دوسری جانب انسانی حقوق اور امدادی اداروں نے جنگ کے انسانی اثرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف (UNICEF) کے مطابق ایران میں حالیہ حملوں کے نتیجے میں کم از کم 20 اسکول اور 10 اسپتال متاثر ہوئے ہیں جس سے بچوں کی تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات متاثر ہو رہی ہیں۔
یاد رہے کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے کی بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس میں درجنوں طلبہ کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم اس واقعے کی تفصیلات مختلف ذرائع میں مختلف انداز سے بیان کی جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر شہری علاقوں میں فوجی سرگرمیوں کے الزامات اور جوابی کارروائیاں بڑھتی رہیں تو اس سے جنگ کے انسانی اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے بھی فریقین پر شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔



