
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے اسرائیل اور امریکہ نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ فوجی مہم مزید پانچ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ دونوں ممالک کے حکام کے مطابق اس آپریشن کا بنیادی مقصد ایران کی میزائل صلاحیت کو اس حد تک کمزور کرنا ہے کہ تہران جنگ کے بعد بھی اپنی فوجی طاقت جلد بحال نہ کر سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب میں آئندہ مرحلے کی جنگی حکمتِ عملی تیار کی جا رہی ہے۔ اگر یہ منصوبہ طے شدہ انداز میں آگے بڑھا تو مجموعی طور پر یہ مہم کم از کم چھ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
میزائل نظام کو مکمل طور پر ناکارہ بنانے کا ہدف
اسرائیلی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ جنگی کارروائیوں کا مرکزی ہدف ایران کے بیلسٹک میزائل لانچرز اور لانچنگ نیٹ ورک کو تباہ کرنا ہے۔ اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کے مطابق اب تک کئی میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جبکہ مزید اہداف پر حملے جاری ہیں۔

فوجی ذرائع کے مطابق آئندہ مرحلے میں پہلے مرحلے کے حملوں سے بچ جانے والے لانچرز کو عارضی طور پر غیر فعال کرنے کے بعد ایک اور بڑی کارروائی کے ذریعے انہیں مکمل طور پر تباہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ اسرائیلی عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ چند دنوں یا ہفتوں کے اندر اندر لانچرز کے بڑے حصے کو ناکارہ بنانے کی امید ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پانچ ہفتوں کا ممکنہ دورانیہ اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے تاکہ ایران کو جنگ کے بعد بھی اپنے میزائل ذخائر اور لانچنگ نظام کو دوبارہ فعال کرنے کا موقع نہ مل سکے۔
ایران کی روس اور چین کو شامل کرنے کی کوشش
امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ایران اس تنازع میں روس اور چین کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تہران دونوں طاقتوں سے سفارتی، معلوماتی اور ممکنہ عسکری تعاون حاصل کرنے کے لیے رابطے کر رہا ہے۔
روس اور چین ایران کے اہم تجارتی اور اسٹریٹجک شراکت دار سمجھے جاتے ہیں، اور تہران کو امید ہے کہ وہ اس بحران میں کسی نہ کسی شکل میں اس کی حمایت کر سکتے ہیں۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ایران کی یہ کوششیں بڑی حد تک کامیاب نہیں ہو سکیں۔

امریکی نگرانی جاری
واشنگٹن کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ادارے اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا روس یا چین اس جنگ میں کسی عملی کردار کی طرف بڑھ رہے ہیں یا نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں روس یا چین کی ممکنہ مداخلت سے خوف نہیں۔ ان کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادی اس تنازع سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
خطے میں کشیدگی برقرار
ماہرین کے مطابق اگر یہ جنگ مزید کئی ہفتوں تک جاری رہی تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور خطے کو ایک طویل اور خطرناک جنگ سے بچایا جا سکے۔



