(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکہ کے وزیرِ فوج ڈین ڈرسکول نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے یا منصب چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، حالانکہ حالیہ دنوں میں پینٹاگون کے اندر اعلیٰ سطحی اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی تھیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈرسکول نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے اور عہدہ چھوڑنے سے متعلق قیاس آرائیاں درست نہیں ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کے اور وزیر دفاع کے درمیان پالیسی امور پر اختلافات کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اختلافات خاص طور پر ایران سے متعلق حالیہ جنگی صورتحال اور فوجی حکمت عملی کے معاملات پر سامنے آئے، جہاں مختلف اداروں کے درمیان نقطہ نظر میں فرق پایا گیا۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے ڈرسکول کی کارکردگی کو سراہا گیا ہے، خاص طور پر ایران سے متعلق حالیہ بحران کے دوران ان کے کردار کو اہم قرار دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی دفاعی اداروں کے اندر اس نوعیت کے اختلافات غیر معمولی نہیں ہوتے، لیکن موجودہ حالات میں یہ زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں کیونکہ خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور فیصلوں کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈرسکول کا عہدے پر برقرار رہنے کا اعلان اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکی قیادت اس وقت پالیسی میں تسلسل برقرار رکھنا چاہتی ہے، تاکہ جاری بحران کے دوران کسی قسم کی غیر یقینی صورتحال پیدا نہ ہو۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ ایران سمیت مختلف عالمی معاملات میں سرگرم ہے، اور دفاعی قیادت کے فیصلے آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔