
ایکسیوس (تازہ حالات رپورٹ ) کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران تہران کے خلاف “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کو بھرپور انداز میں آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس حکمتِ عملی کا مرکزی ہدف ایران کی تیل برآمدات کو کم کرنا ہے، جن میں سے 80 فیصد سے زائد چین کو فروخت کی جاتی ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا مشترکہ مقصد اور “سرخ لکیر” ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ سفارت کاری کی ناکامی کی صورت میں خطے میں فوجی تیاریوں اور موجودگی میں اضافے کو بطور احتیاطی اقدام برقرار رکھا جائے گا۔
ایران کی معیشت پر براہِ راست اثر؟
امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی 80 فیصد سے زائد تیل برآمدات چین جاتی ہیں۔ اگر بیجنگ اپنی خریداری کم کرتا ہے تو ایران کو نمایاں مالی دھچکا لگ سکتا ہے۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ اس سے تہران کے لیے سفارتی مذاکرات میں لچک دکھانا ناگزیر ہو جائے گا۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے حال ہی میں دستخط کیے گئے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت امریکا ان ممالک پر 25 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کر سکتا ہے جو ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھیں۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ چین کے خلاف ایسے اقدامات پہلے سے کشیدہ امریکا-چین تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان اہم تجارتی اور اسٹریٹجک معاملات زیرِ بحث ہیں۔
جوہری مذاکرات اور اختلافِ رائے
امریکی حکام کے مطابق دونوں رہنماؤں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت سے محروم رکھنا ضروری ہے، مگر طریقۂ کار پر اختلاف موجود ہے۔ نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی مؤثر معاہدہ ممکن نہیں، جبکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سفارتی راستہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔

اطلاعات کے مطابق امریکی نمائندے جلد ہی جنیوا میں ایرانی حکام سے دوسرے دور کے مذاکرات کریں گے۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا نے ایران کو عارضی طور پر یورینیم افزودگی معطل کرنے کی تجویز دی، تاہم امریکی حکام نے اس کی تردید کی ہے۔
آگے کیا؟
واشنگٹن کی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی بیک وقت سفارت کاری اور عسکری تیاریوں کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے ہفتے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا ایران معاشی دباؤ کے تحت کسی سمجھوتے کی طرف بڑھتا ہے یا خطہ ایک نئے بحران کی طرف جا رہا ہے۔



