تازہ ترینفلسطین

غزہ کے لیے ’پیس کونسل‘ کا پہلا اجلاس متوقع، نیتن یاہو کی شرکت پر بھی غور

واشنگٹن — غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر پیش رفت اور علاقے کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے مقصد سے قائم کی گئی غزہ کی مجوزہ ’پیس کونسل‘ کا پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس رواں ماہ متوقع ہے۔ امریکی حکام اور سفارتی ذرائع کے مطابق یہ اجلاس 19 فروری کو منعقد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، تاہم حتمی شیڈول میں تبدیلی کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

امریکی ذرائع کے مطابق یہ اجلاس دراصل دو اہداف رکھتا ہے:
ایک، غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کو آگے بڑھانا،
اور دوسرا، تباہ حال پٹی کی تعمیرِ نو کے لیے عالمی سطح پر مالی مدد جمع کرنا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے درجنوں ممالک سے رابطے شروع کر دیے ہیں تاکہ رہنماؤں کو اجلاس میں مدعو کیا جا سکے اور انتظامی امور طے کیے جا سکیں۔ اجلاس واشنگٹن میں انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں منعقد کیے جانے کا امکان ہے، جسے حال ہی میں امریکی صدر کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا دورۂ واشنگٹن بھی انہی دنوں متوقع ہے، جہاں وہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نیتن یاہو 18 فروری کو وائٹ ہاؤس پہنچیں گے، یعنی پیس کونسل کے مجوزہ اجلاس سے ایک دن قبل۔
اطلاعات کے مطابق نیتن یاہو کو کونسل میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے، تاہم انہوں نے تاحال اس کے چارٹر پر دستخط نہیں کیے۔ اگر وہ اجلاس میں شریک ہوتے ہیں تو یہ 7 اکتوبر اور غزہ جنگ کے بعد عرب اور مسلم رہنماؤں کے ساتھ ان کی پہلی عوامی ملاقات ہوگی۔

دوسری جانب جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد سست روی کا شکار ہے۔ اسرائیل نے غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ کھولنے پر اصولی رضامندی ظاہر کی ہے، مگر اب تک بہت محدود تعداد میں فلسطینیوں کو گزرنے کی اجازت ملی ہے۔ ایک عبوری فلسطینی تکنوکریٹ حکومت تو قائم کی جا چکی ہے، لیکن وہ تاحال غزہ میں داخل نہیں ہو سکی اور مصر سے کام کر رہی ہے۔

امریکہ اور ثالث ممالک — مصر، قطر اور ترکی — حماس کے ساتھ ممکنہ علیحدگی (ڈس انگیجمنٹ) کے معاہدے پر ابتدائی کوششیں کر رہے ہیں۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ جب تک حماس غیر مسلح نہیں ہوتی، وہ غزہ سے اپنی فوج نہیں نکالے گا اور نہ ہی تعمیرِ نو کی اجازت دے گا۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے حالیہ سلامتی کونسل اجلاس میں کہا کہ امریکہ غزہ میں ایک متفقہ غیر مسلحی عمل کا آغاز چاہتا ہے، جس کے تحت تمام عسکری ڈھانچے، سرنگیں اور اسلحہ سازی کے مراکز ختم کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی مبصرین اس عمل کی نگرانی کریں گے اور ایک عالمی فنڈ کے ذریعے حماس ارکان سے ہتھیار واپس خریدنے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے جنوری کے آخر میں ’پیس کونسل‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد ابتدا میں غزہ کے عبوری انتظامات کی نگرانی بتایا گیا، تاہم بعد میں اسے عالمی تنازعات کے حل تک توسیع دینے کا عندیہ دیا گیا۔ اس اقدام پر عالمی سطح پر محتاط ردِعمل سامنے آیا ہے، جہاں کچھ مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی شامل ہو چکے ہیں جبکہ کئی مغربی ممالک تاحال پس و پیش سے کام لے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والا اجلاس غزہ کے مستقبل، تعمیرِ نو اور خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر اسرائیلی قیادت براہِ راست اس عمل کا حصہ بنتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button