(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ فوجی کارروائیوں کے دوران ایران کی عسکری، بحری اور دفاعی صلاحیت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا ہے، جس کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کی افواج کی نقل و حرکت اب ان کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ جدید نگرانی اور انٹیلی جنس نظام کے ذریعے ان کی پوزیشنز کا باآسانی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر ایران اپنی افواج کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کرتا ہے تو وہ مزید آسان ہدف بن جائیں گی۔
فوجی اعداد و شمار کے مطابق امریکی اور اتحادی افواج نے اب تک 13 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں 4 ہزار سے زائد فوری جنگی اہداف شامل تھے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے تقریباً 80 فیصد فضائی دفاعی نظام کو تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ 1500 سے زائد فضائی دفاعی اہداف، 450 میزائل اسٹوریج مراکز اور 800 ڈرون ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول اور لاجسٹک نیٹ ورک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جہاں 2000 سے زائد کنٹرول مراکز تباہ کیے گئے، جس سے ایرانی افواج کی عملی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بحری محاذ پر بھی ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جہاں اس کے 90 فیصد سے زائد بحری بیڑے کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ 150 جہاز سمندر میں ڈبو دیے گئے۔ اس کے علاوہ بحری بارودی سرنگوں کے 95 فیصد ذخائر کو بھی ختم کرنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
مزید برآں، ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کو بھی شدید دھچکا پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا، جہاں 90 فیصد اسلحہ ساز فیکٹریوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ شاہد ڈرونز بنانے والی تمام تنصیبات کو تباہ کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اسی طرح ایران کے جوہری صنعتی ڈھانچے کے تقریباً 80 فیصد حصے کو بھی متاثر کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 10 ہزار سے زائد فضائی مشنز مکمل کیے گئے، جن میں درجنوں طویل فاصلے کے بمبار مشنز شامل تھے، جو 30 گھنٹے سے زائد جاری رہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ دعوے انتہائی بڑے ہیں، تاہم ان کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہیں اور مستقبل میں کشیدگی کے نئے مراحل کو جنم دے سکتی ہیں۔
مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے، جہاں ایک طرف جنگ بندی کی بات ہو رہی ہے تو دوسری جانب فوجی دعوے اور بیانات خطے میں غیر یقینی صورتحال کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔