ایرانتازہ ترین

ایران میں امریکی کمانڈوز کا بڑا آپریشن، اہلکار کو بحفاظت نکال لیا گیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران کے جنوبی پہاڑی علاقے میں گرائے گئے امریکی ایف-15E طیارے کے ایک اہلکار کو بچانے کے لیے امریکا نے ایک انتہائی پیچیدہ اور خطرناک ریسکیو آپریشن کیا، جسے امریکی خصوصی فورسز کی تاریخ کے مشکل ترین مشنز میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس آپریشن میں سینکڑوں اسپیشل فورسز اہلکاروں نے حصہ لیا، جن میں نیوی کے ایلیٹ یونٹ سیل ٹیم سکس کے کمانڈوز بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ درجنوں لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹرز اور جدید انٹیلی جنس سسٹمز بھی استعمال کیے گئے، جن میں سائبر اور اسپیس ٹیکنالوجی شامل تھی۔

رپورٹس کے مطابق متعلقہ اہلکار، جو ویپن سسٹم آفیسر تھا، طیارہ گرنے کے بعد زخمی ہونے کے باوجود 24 گھنٹوں سے زائد وقت تک ایرانی فورسز سے بچتا رہا۔ ایک مرحلے پر وہ تقریباً 7 ہزار فٹ بلند پہاڑی مقام تک پہنچ گیا تاکہ خود کو محفوظ رکھ سکے اور ریسکیو ٹیم سے رابطہ برقرار رکھ سکے۔

امریکی ذرائع کے مطابق اس دوران امریکی جنگی طیاروں نے ایرانی قافلوں کو روکنے کے لیے فضائی حملے کیے تاکہ وہ اس مقام تک نہ پہنچ سکیں جہاں اہلکار چھپا ہوا تھا۔ جیسے ہی اسپیشل فورسز اہلکار موقع پر پہنچے، انہوں نے بھی فائرنگ کر کے علاقے کو محفوظ بنایا، تاہم براہ راست جھڑپ سے گریز کیا گیا۔

ریسکیو آپریشن کے آخری مرحلے میں ایک غیر متوقع صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب دو امریکی ٹرانسپورٹ طیارے ایک دور دراز اڈے پر تکنیکی مسائل کے باعث پھنس گئے۔ صورتحال کے پیش نظر امریکی کمانڈرز نے فوری فیصلہ کرتے ہوئے مزید تین طیارے طلب کیے تاکہ تمام اہلکاروں کو بحفاظت نکالا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق ان دو خراب طیاروں کو بعد میں خود ہی تباہ کر دیا گیا تاکہ وہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔ اس کے بعد امریکی فورسز نے تمام اہلکاروں کو بحفاظت علاقے سے نکال لیا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ آپریشن جدید جنگی حکمت عملی، فوری فیصلوں اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک نمایاں مثال ہے، تاہم اس نے یہ بھی ظاہر کیا کہ دشمن کے علاقے میں اس نوعیت کی کارروائیاں انتہائی خطرناک اور غیر متوقع حالات سے بھرپور ہوتی ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جدید جنگوں میں صرف حملے ہی نہیں بلکہ اہلکاروں کی بحفاظت واپسی بھی ایک بڑی ترجیح ہوتی ہے، جس کے لیے بھاری وسائل اور خطرات مول لینا پڑتے ہیں، جبکہ ایسے آپریشنز خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button