امریکاتازہ ترین

امریکا کا مشرق وسطیٰ میں 10 ہزار مزید فوج بھیجنے پر غور، ایران کے خلاف بڑی کارروائی کی تیاری تیز

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی حکومت مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، جہاں وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کم از کم 10 ہزار اضافی جنگی اہلکار بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ایک سینئر امریکی دفاعی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ یہ اقدام خطے میں ممکنہ بڑی زمینی کارروائی کی تیاری کا واضح اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ آئندہ ہفتے متوقع ہے، جبکہ مجوزہ فوجی دستے ان یونٹس سے مختلف ہوں گے جو پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے جا چکے ہیں۔ اس سے قبل امریکا 82ویں ایئر بورن ڈویژن سمیت ہزاروں فوجیوں کو خطے میں بھیج چکا ہے، تاہم نئی تعیناتی اس سے کہیں بڑی اور زیادہ منظم حکمت عملی کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں مزید کمک بھی متوقع ہے، جس میں جدید لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرنز اور اضافی ہزاروں فوجی شامل ہو سکتے ہیں۔ اس پیش رفت کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ سخت اقدامات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ سفارتی آپشنز بھی زیر غور ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے اس سطح کی تیاری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف زمینی آپریشن کے امکان کو سنجیدگی سے لے رہا ہے، اگرچہ حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔ خطے میں پہلے ہی بڑھتی ہوئی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور توانائی کی عالمی سپلائی پر دباؤ نے حالات کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

دوسری جانب عالمی برادری اس ممکنہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ کسی بھی بڑے فوجی تصادم کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو یہ تنازع ایک وسیع تر علاقائی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button