تازہ ترینمشرق وسطی

مشرق وسطیٰ جنگ کے بعد امریکا کی دفاعی کمزوری بے نقاب، چین کی اہمیت بڑھ گئی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرق وسطیٰ میں حالیہ جنگ کے بعد امریکا کے میزائل دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث واشنگٹن کو اپنے دفاعی ذخائر کی بحالی کے لیے ایک بار پھر چین جیسے حریف ملک پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق Iran کی جانب سے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات، خاص طور پر ریڈار اور دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا، جس سے جدید انٹرسیپٹر سسٹمز کو نقصان پہنچا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دفاعی ہتھیاروں میں استعمال ہونے والا اہم جزو "گیلیم” ہے، جو جدید ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹرز میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ China گیلیم اور دیگر نایاب معدنیات کی پروسیسنگ پر تقریباً مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی دفاعی نظام کی بحالی کے لیے چین کی سپلائی چین ایک اہم عنصر بن سکتی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان جاری اسٹریٹجک کشیدگی میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں میں گیلیم کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو بڑھتی ہوئی طلب اور سپلائی کے خدشات کی نشاندہی کرتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کو اپنے میزائل دفاعی نظام کو دوبارہ مکمل صلاحیت پر لانا ہے تو اسے نہ صرف وقت بلکہ بھاری سرمایہ کاری اور مستحکم سپلائی چین کی بھی ضرورت ہوگی۔

مزید برآں، دیگر نایاب معدنیات جیسے ٹربیئم اور ڈیسپروسیم بھی جدید ہتھیاروں میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اور ان کی پروسیسنگ میں بھی چین کا غلبہ 90 فیصد سے زائد بتایا جاتا ہے۔ اس صورتحال نے امریکی دفاعی صنعت کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں، جہاں پہلے ہی پیداوار اور سپلائی کے مسائل موجود ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران امریکی دفاعی نظام پر دباؤ اس حد تک بڑھ گیا کہ بعض صورتوں میں ایک میزائل کو تباہ کرنے کے لیے کئی انٹرسیپٹرز استعمال کرنا پڑے، جس سے ذخائر تیزی سے کم ہوئے۔ اس کے نتیجے میں امریکا کو اپنے دفاعی نظام کی حکمت عملی اور وسائل دونوں کا ازسرنو جائزہ لینا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے متبادل سپلائی چینز کی تلاش شروع کر دی ہے، جس میں اتحادی ممالک کے ساتھ معدنیات کے معاہدے، کان کنی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبے میں نئی پالیسیاں شامل ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب Donald Trump اور Xi Jinping کے درمیان اہم ملاقات متوقع ہے، جہاں تجارتی اور دفاعی معاملات کے ساتھ ساتھ نایاب معدنیات کی سپلائی بھی اہم موضوع بن سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ جدید جنگ صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا دارومدار ان وسائل پر بھی ہے جو ان ہتھیاروں کو ممکن بناتے ہیں، اور یہی وسائل اب عالمی طاقتوں کے درمیان نئی کشمکش کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button