
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
تہران میں دھماکے اور دھوئیں کے بادل
ہفتے کی رات شروع ہونے والے اس آپریشن کے بعد ایرانی دارالحکومت تہران کے افق پر دھوئیں کے سیاہ بادل بلند ہوتے دیکھے گئے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی جانب سے جاری کردہ تصاویر اور ویڈیوز میں تہران کے مختلف حساس مقامات پر ہونے والے دھماکوں کے اثرات واضح ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہر میں بمباری کی آوازیں اتنی شدید تھیں کہ کئی میل دور تک سنی گئیں۔
آپریشن کے اہداف اور صدر ٹرمپ کا موقف

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ محض ایک محدود فضائی کارروائی نہیں ہے بلکہ ایک وسیع عسکری مہم ہے جس کا مقصد ایران کی جانب سے درپیش "آخری خطرے” کو ختم کرنا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، اس آپریشن میں ایران کے میزائل یونٹس، ڈرون سینٹرز اور دیگر اہم دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا ایک بڑا مقصد ایرانی عوام کو موجودہ نظام سے نجات دلانا اور انہیں اپنی حکومت خود منتخب کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

ردِعمل کا خدشہ اور عالمی تشویش
دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی (Retaliation) اب یقینی ہے۔ امریکی حکام کا ایک حلقہ پہلے ہی اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہا تھا کہ اس پیمانے کی جنگ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی کو بھی شدید متاثر کر سکتی ہے۔ خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات پر حملوں کی خبروں نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔
اس وقت عالمی برادری کی نظریں اقوامِ متحدہ اور بڑی طاقتوں پر لگی ہیں کہ آیا وہ اس تصادم کو روکنے میں کوئی کردار ادا کر پائیں گی یا مشرقِ وسطیٰ ایک طویل اور خونی جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔



