
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے اپنے طاقتور بی-52 اسٹریٹوفورٹریس (B-52 Stratofortress) بمبار طیارے میدان میں لانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے اگلے مرحلے میں ایران کے خلاف حملے پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فضائیہ کے تین بی-52 بمبار طیارے برطانیہ کے RAF فیئر فورڈ ائربیس پہنچ چکے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ طیارے ایران کی زیرِ زمین فوجی یا جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والی ممکنہ کارروائیوں میں استعمال ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب امریکہ اور اسرائیل ایران کی فضائی حدود پر نمایاں کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

بی-52 اسٹریٹوفورٹریس دنیا کے قدیم ترین مگر انتہائی طاقتور بمبار طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ طیارہ پہلی بار 1952 میں سرد جنگ کے دوران متعارف کروایا گیا تھا اور اسے اس وقت سوویت یونین پر جوہری حملوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ حیران کن طور پر سات دہائیوں کے بعد بھی یہ طیارہ امریکی فوجی طاقت کا اہم حصہ ہے۔
یہ طیارہ 70 ہزار پاؤنڈ تک بم اور میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جن میں کروز میزائل، بھاری روایتی بم اور بعض صورتوں میں جوہری ہتھیار بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ “میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر” (Massive Ordnance Penetrator) نامی طاقتور بنکر بسٹر بم بھی گرا سکتا ہے، جو زمین کے اندر گہرائی میں موجود تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
بی-52 طیارے ماضی میں بھی امریکہ کی تقریباً ہر بڑی جنگ میں استعمال ہو چکے ہیں۔ ویتنام جنگ میں یہ طیارے بڑے پیمانے پر بمباری کے لیے استعمال ہوئے، جبکہ خلیجی جنگ (Operation Desert Storm) اور بعد میں عراق و شام میں داعش کے خلاف کارروائیوں میں بھی ان کا اہم کردار رہا۔

ماہرین کے مطابق ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں میں ان طیاروں کی شمولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ زیرِ زمین فوجی ڈھانچے یا حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی-52 طیارے نہ صرف جنگی کارروائیوں کے لیے بلکہ مخالف ممالک پر فوجی دباؤ اور طاقت کے اظہار کے طور پر بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ موجودہ کشیدگی کے تناظر میں ان کی تعیناتی خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔



