امریکاتازہ ترین

ایران کے خلاف امریکی فوجی تیاری، خصوصی دستوں کی تعیناتی، ممکنہ اہداف کیا ہیں؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکہ نے اپنے اہم خصوصی فوجی یونٹس خطے میں تعینات کر دیے ہیں، جس سے ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تعیناتیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ صرف فضائی حملوں تک محدود نہیں بلکہ زمینی اور خفیہ آپریشنز کے لیے بھی تیاری کر رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق تعینات کیے جانے والے یونٹس میں امریکہ کے انتہائی تربیت یافتہ اور خفیہ آپریشنز میں مہارت رکھنے والے دستے شامل ہیں۔ ان میں 160th SOAR (نائٹ اسٹاکرز) جیسے ہیلی کاپٹر یونٹس شامل ہیں جو رات کے وقت خصوصی فورسز کو خفیہ طور پر داخل اور باہر نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح 75th رینجر رجمنٹ کو تیز رفتار حملوں، ایئر فیلڈز پر قبضے اور اہم اہداف پر کارروائی کے لیے جانا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ امریکہ کی انتہائی خفیہ یونٹ ڈیلٹا فورس بھی تعینات کی گئی ہے، جو حساس اور ہائی ویلیو اہداف کے خلاف انتہائی درست کارروائیوں میں مہارت رکھتی ہے۔ امریکی نیوی سیلز بھی اس فہرست میں شامل ہیں، جو سمندر، زمین اور فضاء سے خفیہ مشنز انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مزید برآں، 5th اسپیشل فورسز گروپ جو مشرقِ وسطیٰ میں کارروائیوں کا وسیع تجربہ رکھتا ہے، اور دیگر خصوصی یونٹس بھی اس تعیناتی کا حصہ ہیں، جو مقامی فورسز کے ساتھ مل کر کام کرنے اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی اپنانے میں مہارت رکھتے ہیں۔

ممکنہ اہداف اور حکمت عملی

ماہرین کے مطابق ان فورسز کی تعیناتی سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ کئی اہم اہداف پر غور کر رہا ہے۔ ان میں سب سے اہم آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزائر ہیں، جنہیں ایران عالمی جہاز رانی کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ان جزائر پر قبضہ کر کے امریکہ اس اہم سمندری راستے کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

ایک اور اہم ہدف خارگ جزیرہ ہو سکتا ہے، جو ایران کی تیل برآمدات کا مرکزی مرکز ہے۔ اس پر قبضہ یا حملہ ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ایران کی جوہری تنصیبات اور دیگر حساس فوجی مراکز بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہیں، جہاں محدود مگر انتہائی اہم کارروائیاں کی جا سکتی ہیں تاکہ ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔

بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ حکمت عملی روایتی جنگ کے بجائے “ہائی ویلیو ٹارگٹ آپریشنز” پر مبنی ہو سکتی ہے، جہاں کم وقت میں بڑے اسٹریٹیجک نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسی کارروائیاں انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں، کیونکہ ایران کی جانب سے سخت ردعمل متوقع ہے، جس سے جنگ مزید پھیل سکتی ہے اور خطے میں بڑے تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ فوجی تیاری محض دباؤ بڑھانے کے لیے ہے یا واقعی کسی بڑے آپریشن کا پیش خیمہ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button