امریکاتازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی ‘EC-130H’ طیارے کی انٹری  ایران کے خلاف بڑی کارروائی کی تیاری؟

(تازہ حالات رپورٹ )امریکی فوج کا جدید الیکٹرانک جنگی طیارہ EC-130H کمپاس کال مشرقِ وسطیٰ میں پہنچ گیا ہے۔ ہوا بازی کے ماہرین نے منگل کے روز اس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں امریکی افواج کی غیر معمولی نقل و حرکت دیکھی جا رہی ہے اور ایران کے خلاف ممکنہ فوجی آپشنز پر غور کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

اگرچہ EC-130H ایک پرانا پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے، مگر الیکٹرانک وارفیئر کے میدان میں اسے اب بھی امریکی فضائیہ کا مؤثر اور اہم ہتھیار قرار دیا جاتا ہے۔ اس طیارے میں جدید سسٹمز نصب ہیں جو دشمن کے مواصلاتی نظام کو جام (jam) کرنے، ریڈیو اور سیلولر نیٹ ورکس کو بلاک کرنے اور ڈیٹا لنکس کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کیا ہے کمپاس کال کی خاصیت؟

ماہرین کے مطابق یہ طیارہ دشمن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے ریڈار سسٹمز، فضائی دفاعی نیٹ ورکس اور جی پی ایس سگنلز کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی صلاحیتیں کسی بھی ممکنہ فضائی کارروائی سے قبل “الیکٹرانک برتری” حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

EC-130H میں کم از کم دس ماہر اہلکار سوار ہوتے ہیں، جو مختلف الیکٹرانک سسٹمز کو آپریٹ کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف دشمن کے سگنلز کی شناخت کر سکتا ہے بلکہ ان کی بنیاد پر ہدف کی معلومات کمانڈ سینٹر یا حملہ آور طیاروں کو فراہم کر سکتا ہے۔ بعض دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ہی طیارہ وسیع علاقے میں دیگر جنگی طیاروں کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں میزائلوں کا خطرہ زیادہ ہو۔

خطے میں بڑھتی سرگرمیاں

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحری اور فضائی اثاثوں کی بڑھتی ہوئی تعیناتی نے سفارتی حلقوں میں بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے باضابطہ طور پر کسی فوری حملے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں دفاعی تیاریوں کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی ہوتی ہے تو الیکٹرانک وارفیئر کا کردار روایتی فضائی حملوں سے پہلے یا ان کے ساتھ ساتھ انتہائی اہم ہوگا۔ فی الحال صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے، جبکہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button