ایرانتازہ ترین

امریکہ میدان میں آ گیا! اسرائیل میں جنگی طیاروں کی لینڈنگ اور نیتن یاہو کا بڑا اعلان

یروشلم/(تازہ حالات رپورٹ ): ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی فوجی نقل و حرکت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پیر کے روز امریکی فوج کے بھاری ٹرانسپورٹ اور ایندھن بھرنے والے طیارے اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ پر دیکھے گئے، جو خطے میں واشنگٹن کی وسیع فوجی تیاریوں کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بحیرہ روم میں تعینات امریکی طیارہ بردار جہاز USS Gerald R. Ford بھی کریٹ کے قریب دیکھا گیا، جسے کیریبین سے منتقل کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی کا مقصد ممکنہ ایرانی ردعمل کی صورت میں اسرائیلی شہروں کے دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ اس سے قبل USS Abraham Lincoln پہلے ہی خطے میں موجود ہے۔

اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے غیر معمولی طور پر مختصر تقریر میں موجودہ صورتحال کو “انتہائی پیچیدہ اور چیلنجنگ” قرار دیا۔ اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا:
“کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا۔ ہم پوری طرح حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہیں۔”

انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر ایران نے اسرائیل کے خلاف حملہ کیا تو جواب ایسا ہوگا “جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے”، اور اسے ایران کی تاریخ کی “سنگین ترین غلطی” قرار دیا۔

دوسری جانب امریکا نے لبنان سے اپنے غیر ضروری سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کے انخلا کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق تقریباً 50 افراد کو بیروت سے نکالا گیا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام احتیاطی نوعیت کا ہے اور بیروت میں امریکی سفارت خانہ ضروری عملے کے ساتھ بدستور کام کر رہا ہے۔

امریکی میڈیا اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 200 سے زائد امریکی لڑاکا طیارے موجود ہیں، جبکہ یورپ سمیت مجموعی تعداد 300 سے تجاوز کر سکتی ہے۔ ان میں ایف-15، ایف-16، ایف-22 اور جدید ایف-35 اسٹیلتھ طیارے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ درجنوں ری فیولنگ، انٹیلی جنس اور کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

ادھر ایرانی اپوزیشن ذرائع کے مطابق تہران کی بعض جامعات میں حکومت مخالف طلبہ مظاہرے بھی جاری ہیں، جس سے اندرونی دباؤ میں اضافے کے اشارے ملتے ہیں۔ تاہم ایرانی سرکاری میڈیا نے ان اطلاعات پر محدود تبصرہ کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ تاحال کسی براہِ راست فوجی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن خطے میں فوجی تعیناتی، سفارتی سرگرمیوں اور سخت بیانات نے صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب واشنگٹن اور تہران کے اگلے قدم پر مرکوز ہیں، کیونکہ کسی بھی غلط اندازے کے نتائج پورے خطے کو متاثر کر سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button