ایران کشیدگی میں اضافہ: امریکا نے قطر اور بحرین سے فوجی نکال لیے، خطے میں ہائی الرٹ صورتحال

امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا نے بڑھتی ہوئی ایران کشیدگی کے پیش نظر قطر اور بحرین سے اپنے سینکڑوں فوجیوں کو واپس بلا لیا ہے۔ خبر میں پینٹاگون کے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق قطر میں واقع العدید ایئر بیس، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ سمجھا جاتا ہے اور جہاں تقریباً دس ہزار اہلکار تعینات ہیں، وہاں سے محدود تعداد میں فوجیوں کو نکالا گیا ہے۔ اسی طرح بحرین سے بھی کچھ اہلکاروں کی واپسی کی اطلاعات ہیں، جہاں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا قائم ہے۔

تاہم ذرائع کے مطابق امریکا کی فوجی موجودگی مکمل طور پر ختم نہیں کی گئی اور عراق، شام، کویت، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی افواج بدستور موجود ہیں۔ مبصرین اس اقدام کو ممکنہ امریکی کارروائی اور اس کے ردِعمل کے خدشات کے تناظر میں پیشگی حفاظتی قدم قرار دے رہے ہیں۔
ادھر ایران نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بھیجے گئے ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو خطے میں موجود “مخالف قوتوں” کے تمام اڈے اور تنصیبات جائز اہداف سمجھے جائیں گے۔ خط میں امریکا کو کسی بھی ممکنہ نتائج کی مکمل ذمہ داری اٹھانے کا انتباہ بھی دیا گیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمان، جو ایران اور اردگرد کے خطے کی نگرانی کرتی ہے، نے فوری طور پر اس رپورٹ پر تبصرہ نہیں کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں معمولی فوجی نقل و حرکت بھی خطے میں سیکیورٹی توازن اور سفارتی ماحول پر اثر ڈال سکتی ہے، اسی لیے عالمی سطح پر اس پیش رفت کو قریب سے دیکھا جا رہا ہے۔



