
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی فوجی حکام نے طویل عرصے سے خبردار کیا تھا کہ خلیجی خطے میں قائم امریکی فوجی اڈے، خاص طور پر سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس، ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے لیے حساس اور خطرے سے دوچار ہیں۔ تاہم ان خطرات کے باوجود مجوزہ حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی دفاعی ماہرین نے مشورہ دیا تھا کہ فوجی تنصیبات اور اہلکاروں کو سعودی عرب کے مغربی علاقوں میں منتقل کیا جائے، جہاں جغرافیائی لحاظ سے ایران کے حملوں سے بہتر تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف فوجی نقصانات کو کم کرنا تھا بلکہ اہم آپریشنل صلاحیتوں کو محفوظ بنانا بھی تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تجویز مختلف سطحوں پر زیر غور رہی، تاہم نہ تو سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں اور نہ ہی موجودہ انتظامیہ کے تحت اس منصوبے کو عملی شکل دی جا سکی۔ اس تاخیر کو بعض ماہرین ایک اہم سیکیورٹی خلا قرار دے رہے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق خلیج میں امریکی اڈے ایران کے قریب ہونے کی وجہ سے اس کے میزائل اور ڈرون رینج میں آتے ہیں، جس سے کسی بھی ممکنہ تنازع میں یہ فوری نشانہ بن سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سے خطے میں ایسے حملوں کی مثالیں بھی سامنے آ چکی ہیں، جس سے ان خدشات کو مزید تقویت ملی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ نے اپنے دفاعی نظام کو جدید بنایا ہے، لیکن جغرافیائی قربت اور بڑھتی ہوئی ڈرون ٹیکنالوجی کے باعث خطرات مکمل طور پر ختم نہیں کیے جا سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حلقے فوجی تنصیبات کی نئی ترتیب یا دوبارہ تعیناتی کو ضروری قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر عمل نہ ہونے کی وجہ سیاسی، سفارتی اور لاجسٹک عوامل ہو سکتے ہیں، کیونکہ کسی بھی فوجی اڈے کی منتقلی ایک پیچیدہ اور مہنگا عمل ہوتا ہے جس کے علاقائی اثرات بھی ہوتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ کشیدہ صورتحال میں یہ سوال دوبارہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا امریکہ اپنی فوجی حکمت عملی میں تبدیلی لائے گا یا موجودہ پوزیشن برقرار رکھے گا، جبکہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید فیصلے متوقع ہیں۔



