
واشنگٹن/یورپ: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی فضائیہ (USAF) کی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اوپن سورس فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 46 فضائی ایندھن بردار (ٹینکر) طیارے یورپ کے مختلف اڈوں پر منتقل کیے گئے، جب کہ 23 سی-17 اور سی-5 کارگو پروازیں مشرقِ وسطیٰ کی جانب بھیجی گئیں۔ مجموعی طور پر اب تک 193 ائیر لفٹ مشنز خطے کی جانب ریکارڈ کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید پروازیں جاری ہیں۔
یورپ میں ٹینکر طیاروں کی بڑی تعیناتی
امریکی ٹینکر طیارے پرتگال کے لاجیش فیلڈ، اسپین کے نیول اسٹیشن روٹا، بلغاریہ کے صوفیہ ایئرپورٹ اور یونان کے چانیا ایئرپورٹ پر تعینات کیے گئے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی تعیناتی طویل فاصلے تک بمبار یا جنگی طیاروں کی پروازوں کے لیے سازگار ہوتی ہے، تاہم تاحال کسی بمبار اسکواڈرن کی باضابطہ تعیناتی کی تصدیق نہیں ہوئی۔

صرف چانیا ایئرپورٹ پر کم از کم 10 کے سی-135 اسٹریٹوٹینکر زمین پر موجود ہیں، جبکہ روٹا بیس پر 15 سے زائد ٹینکر طیاروں کی موجودگی رپورٹ کی گئی ہے۔ صوفیہ میں بھی 9 ٹینکر طیارے پہنچ چکے ہیں۔
جنگی طیاروں کی نقل و حرکت
ذرائع کے مطابق مختلف امریکی اڈوں سے ایف-16، ایف-22، ایف-35 اور ایف-15 طیاروں کی مشرقِ وسطیٰ منتقلی جاری ہے۔ برطانیہ کے آر اے ایف لیکنتھیتھ سے 10 مزید ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل طیارے اردن کے موافقہ سلتی ایئر بیس روانہ کیے گئے ہیں۔ اس تعیناتی کے بعد اردن میں موجود "ایل این” کوڈ والے ایف-15 ای کی تعداد 22 اور ایف-35 اے کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔

اس کے علاوہ چار ای-3 سینٹری (AWACS) نگرانی طیارے جرمنی کے رامسٹین ایئر بیس پہنچے ہیں، جب کہ دو ای-3 طیارے برطانیہ سے سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس منتقل کیے گئے۔ یہ طیارے فضائی نگرانی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
اردن میں فضائی مرکز کی مضبوطی
اردن کا موافقہ سلتی ایئر بیس امریکی سرگرمیوں کا مرکزی حب بنتا جا رہا ہے۔ آج دس سی-17 گلوب ماسٹر کارگو طیارے اس بیس پر پہنچے یا راستے میں ہیں۔ ان پروازوں کے ذریعے اہلکاروں، ساز و سامان اور اسلحے کی ترسیل کی جا رہی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیمانے کی نقل و حرکت اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ امریکہ خطے میں ممکنہ ہنگامی صورت حال کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ اگرچہ امریکی حکام نے اسے معمول کی تعیناتی اور اتحادیوں کی معاونت قرار دیا ہے، لیکن بیک وقت بڑی تعداد میں ٹینکر، نگرانی اور جنگی طیاروں کی موجودگی کو غیر معمولی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
پس منظر
یہ تمام سرگرمیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال حساس مرحلے میں ہے اور سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ مبصرین کے مطابق فضائی ایندھن بردار طیاروں کی بڑی تعداد اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ فضائی کارروائیوں کی گنجائش کو وسعت دی جا رہی ہے، چاہے وہ محض دفاعی نوعیت کی ہی کیوں نہ ہوں۔
فی الحال امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے ان تعیناتیوں پر کوئی تفصیلی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔



